الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 49

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 49 کے فلسفہ میں کوئی جگہ نہیں۔مارکس، ہیگل کے اس نظریہ تصوریت سے متفق نہیں جس کے مطابق حقائق کے تحرک کا باعث بنے والے تصورات (Ideas) کو معروضی حقائق پر فوقیت حاصل ہے۔ہیگل کے فلسفہ کے مطابق تصورات کی تخلیق پہلے ہوتی ہے اور مادی تبدیلیاں بعد میں اس کے زیر اثر وقوع پذیر ہوتی ہیں۔جب یہ تبدیلیاں پختہ ہو کر نئے تصورات کی حامل بن جاتی ہیں تو پھر ان کی تصدیق کیلئے نئے سرے سے آزمائش کا دور شروع ہو جاتا ہے۔اس طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے جس کے نتیجہ میں موضوعی حقائق ایسے معروضی حقائق اور تجربہ پر بنی صداقتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور جو تجرباتی طور پر ثابت بھی کئے جاسکتے ہیں۔مارکس انتہائی ہوشیاری سے اس پوشیدہ خطرے کو بھانپ لیتا ہے کہ اگر ہیگل کے فلسفہ کے مطابق موضوعی تصورات ہی معروضی حقائق کا باعث بنتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ موضوعی تصورات کو معروضی حقائق پر تقدم حاصل ہے۔نتیجہ علت و معلول کا ایک خطرناک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور تصورات سے قبل ابتداء ایک شعور کا ماننا ضروری ہو جاتا ہے جس کا ادراک زندگی کے تصور کے بغیر ممکن نہیں۔اس طرح یہ سلسلہ انجام کار ہستی کباری تعالیٰ بحیثیت علت العلل ہونے پر منتج ہوتا نظر آتا ہے جو تصورات کے ذریعہ معروضی تبدیلیاں لانے پر قادر ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ مارکس نے کھل کر ہیگل کے مثالیت پسند فلسفہ کو قبول نہیں کیا۔تاہم اس نے علت و معلول کے سلسلہ کو نہایت باریک بینی سے توڑ مروڑ کر ہیگل کے فلسفہ کی قلب ماہیت کر دی ہے اور اسے اپنے فلسفہ میں تبدیل کر دیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ مادہ پہلے اور خیال بعد میں۔اس کے نزدیک یہ جدلیاتی عمل خیال سے نہیں بلکہ مادہ سے پیدا ہوتا ہے اور مادہ بجائے خود ان قوانین قدرت کے ماتحت ہے جو خود کار ہیں۔نتیجہ جدلیاتی مادیت کا یہ عمل آخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے خواہ اس میں تصور کا عمل دخل ہو یا نہ ہو۔خالص مادہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہوئے اس کا راستہ متعین کرتا چلا جاتا ہے اور اس طرح اپنا راستہ خود دریافت کر لیتا ہے۔یہ فلسفہ اس بنیادی مفروضے پر قائم ہے کہ خدا تعالٰی موجود نہیں تا کہ ایک قادر خدا کو انسانی معاملات سے بے دخل کر دیا جائے۔کیونکہ اس کے نزدیک یہ صرف انسان ہی ہے جو اپنے معاملات کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔جس طرح مارکس عقل اور منطق پر کلی انحصار کرتا ہے اسی طرح وہ خدا اور وحی کا مطلقاً