الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 45

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 45 اپنے لئے ایک مستقل مقام حاصل کر لیا ہے۔دنیا بھر میں اس کے ماننے والوں کی ایک کثیر تعداد اسے ہمیشہ عزت و احترام سے یادر کھے گی۔انیسویں صدی کے فلاسفہ الحاد میں مارکس (1818ء۔1883ء) کی اہمیت ایک الگ تفصیلی بحث کی متقاضی ہے۔وجود باری تعالیٰ سے اس کا انکار محض اتفاقی نہیں بلکہ یہ انکار اس کے فلسفہ کا جز ولا ینفک ہے۔یہ فلسفہ بنیادی طور پر مذہب سے متصادم ہے۔مارکس کے نزدیک انسان بھی عناصر طبعی کی مانند عمرانی و معاشیاتی قوانین کے تابع ایک دوسرے پر کارل مارکس اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔انسانوں کو مذہبی مداخلت سے آزاد ہونا چاہئے کیونکہ یہ انہیں فطرت سے دور لے جاتی ہے۔مارکس کا خیال ہے کہ وحی اور القاسم کے مذہبی تصورات کا فلسفہ سے کوئی تعلق نہیں۔مارکس کے بعد میٹھے کی قد آور شخصیت ہمارے سامنے آتی ہے۔نیٹشے اپنے تلوار جیسے تیز قلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات کو نشانہ پر رکھ کر حملہ آور ہوتا ہے اور بالآخر فاتحانہ اعلان کرتا ہے کہ خدا مر چکا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عیسائیت کے خدا کے سوا اسے کسی اور خدا کا علم تک نہ تھا۔اس نے عیسائیت کے پیش کردہ اس خدا کو اپنی عقل سے تہ تیغ کر دیا۔اس طرح کر کی گارڈ کا انتباہ جو اس نے پادریوں کو کیا تھا درست ثابت ہوا کہ تثلیث کے متعلق چارونا چار چپ رہنا ہی عقلمندی ہے اور خاموشی دفاع کی ناکام کوشش سے کہیں بہتر ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں یورپ کے اکثر دہر یہ خیالات رکھنے والے مفکرین کو کلیسا کے رویہ نے اس بات پر مجبور کر دیا تھا کہ وہ ہستی کباری تعالیٰ کا سرے سے انکار کر دیں کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے تصور کو نا معقول حد تک مبہم بنا دیا تھا۔دہر یہ فلسفیوں میں سے شاید ژاں پال سارتر ا Jean Paul Sartre (1980-1905) سب سے زیادہ دلچسپ اور زندہ دل ہے۔وہ سادہ لفظوں میں گہری بات کہنے کا فن خوب جانتا ہے۔خدا تعالیٰ کے تصور کے بغیر کائنات میں انسان کس طرح آزاد ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بے بس اور تنہا محسوس کرتا ہے، اس کے متعلق سارتر ا یوں رقمطراز ہے: