الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 656 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 656

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 625 افسوس صد افسوس! پیشگوئی اور وحی الہی جو ہر زندہ مذہب کی جان ہوتی ہے اسے یوں اسلام کے بدن سے ہمیشہ کیلئے نکال باہر کیا گیا۔اس کھینچا تانی میں بس ایک نیم مردہ سا وجود باقی بچا ہے جس میں زندگی کی محض ایک بے مقصد اور بے سودی رمق باقی ہے۔نہ جانے یہ لوگ جلی حروف میں نقش اس نوشتہ دیوار کو کیوں نہیں پڑھتے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر روحانی تجربہ سے وحی الہی کو کلیہ نکال دیا جائے تو ایمان محض قصوں کہانیوں تک محدود ہو جاتا ہے اور الہامِ الہی سے خالی روحانی زندگی بے معنی اور مذہب بے مقصد ہوکر رہ جاتا ہے۔الہام الہی نہ صرف ایمان کو جلا بخشتا اور روح کو منور کر دیتا ہے بلکہ ایمان میں زندگی کی روح بھی پھونک دیتا ہے۔مادہ پرستی کے اس گھپ اندھیرے میں جب دہریت، مایوسی اور قنوطیت میں مزید اضافہ کر دیتی ہے تو اس وقت صرف الہام الہی ہی ہے جو روشنی کا پیامبر بن کر نا امیدی کو امید میں اور کفر کے اندھیرے کو ایمان کی روشنی میں بدل دیتا ہے۔جو مقام دن کے وقت سورج کو حاصل ہے وہی مقام مذہب میں نبی کو حاصل ہے۔اسی طرح جو تعلق ستاروں کا اندھیری رات سے ہے بعینہ وہی تعلق وحی کا کفر کی تاریکی سے ہے۔الہام الہی سے انکار اور نبوت کی نفی سے قیامت اور یقینی ہلاکت کے سوا کچھ بھی تو باقی نہیں بچتا۔خدا حافظ حوالہ جات فیض احمد فیض، نسخہائے وفا، از 'تنہائی'