الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 655

624 تتمه یا سے اسے تلاش کرتے اور اس کی آواز پر کامل فرمانبرداری سے لبیک کہتے ہیں۔یہ ایک عالمگیر وعدہ ہے جو کسی زمانہ یا قوم سے مخصوص نہیں۔مختصر یہ کہ اسلام ایسا مذہب ہے جو ہمیشہ امید کا پیغام دیتا ہے اور خدا کے مکالمہ مخاطبہ کو ماضی تک ہی محدود نہیں رکھتا۔خدا کا انسان کے ساتھ شفقت اور ہدایت دینے کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔جب بھی اسے تلاش کیا جائے وہ مل جاتا ہے۔جب بھی اس سے دعا کی جائے وہ جواب دیتا ہے۔وہ ازلی ابدی ہے۔اس کی جملہ صفات میں سے کوئی ایک صفت بھی کبھی معطل نہیں ہوگی۔انسان ہمیشہ وحی الہی کا محتاج رہے گا۔سلسلہ نبوت کے بعد وحی الہی ہی تمام عقلی اور فلسفیانہ تحقیق کی موشگافیوں سے الگ ایمان کی کی شمع کو روشن رکھتی ہے۔اسی سے انسان کو زندہ خدا کے وجود پر یقین نصیب ہوتا ہے۔خدا اپنی قربت کے معروضی اور موضوعی دونوں قسم کے نشان دکھاتا ہے۔وحی الہی ہر قسم کے شکوک و شبہات کو دور کر کے ایمان کو تقویت بخشتی ہے۔عہد حاضر میں اسلام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ قرون وسطی کے علماء اور جدید دانشوروں کے درمیان کشمکش کا شکار ہے۔اس صورت حال کے ذمہ دار بڑی حد تک تو قرون وسطی کے علماء ہیں لیکن علامہ اقبال جیسے مفکر اور مودودی صاحب جیسے مذہبی عالم بھی اسے نقصان پہنچانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔نیٹشے (Nietzsche) کا ہونہار شاگرد اقبال آسمانی ہدایت سے کلیۂ جان چھڑانا چاہتا ہے اور مودودی نے پولوس اور بہائی نظریات کا ایک ملغوبہ تیار کر دیا ہے۔وہ نبوت سے اس لئے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کہ کہیں نبی کا انکار قہر الہی کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔ان دونوں سور ماؤں نے نہ تو نبوت کا کچھ باقی چھوڑا ہے اور نہ ہی وحی و الہام کا۔یوں اسلام کا دامن ہر قسم کی امید سے خالی کر دیا ہے۔عصر حاضر کے ایک عظیم شاعر فیض احمد فیض کے مندرجہ ذیل اشعار ان دونوں مفکروں کے فلسفہ کی بہترین عکاسی کرتے ہیں: اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا 1 اب