الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 654 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 654

الهام ، عقل ، علم اور سچائی تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔پس جو کوئی اپنے رب کی لقاء چاہتا ہے وہ ( بھی ) نیک عمل بجالائے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔623 قرآنی الفاظ يَرْجُوا لِقَاءَ سے واضح طور پر وحی الہی مراد ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔لیکن یہ فیصلہ کہ کون اس کا اہل ہے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے نہ کہ بندہ کے اختیار میں۔وحی الہی کا یہی وعدہ ان مومنوں کیلئے جو ہر ابتلا میں ثابت قدم رہتے ہیں، زیادہ وضاحت کے ساتھ قرآن کریم کی دیگر بہت سی آیات میں موجود ہے جیسا کہ فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ المَلكة الا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوليؤكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ( حم السجده (31:41-32 ترجمہ: یقینا وہ لوگ جنہوں نے کہا۔اللہ ہمارا رب ہے، پھر استقامت اختیار کی ، ان پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور اس جنت ( کے ملنے ) سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔ہم اس دنیوی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ان آیات کی موجودگی میں وحی الہی کے جاری رہنے کے بارہ میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔قرآن کریم مزید فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَانِي ( البقرة 2: 187) ترجمہ: اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں۔یہاں وحی الہی کا دائرہ وسیع کر کے ان تمام بندگانِ خدا کو شامل کر لیا گیا ہے جو خلوص نیت