الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 646

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 615 دنیا کے تمام مذہبی لیڈروں میں سب سے زیادہ افسوسناک حالت مسلم ملائیت کی ہے۔اسلام کی آخری فتح کیلئے ان کی لاحاصل تمنائیں دراصل پیشگوئیوں کی حد درجہ غلط تو جیہات پر مبنی ہیں جن کی حیثیت کسی سراب یا واہمہ سے زیادہ نہیں۔اسلام تو در کنار یہ تو اب کسی معمولی سی مذہبی تنظیم کی قیادت کے اہل بھی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی نبی کی اطاعت کے اہل رہے ہیں خواہ پرانا نبی ہو یا نیا۔حضرت عیسی کے زور بازو سے حاصل ہونے والی اسلام کی آخری فتح کے بارہ میں علماء کا تصور انہیں اسلام کی آخری فتح کی جدو جہد میں کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے سے فارغ کر دیتا ہے۔کیا بات تو یہ ہے کہ ان علماء کو ایک نبی کی نہیں بلکہ ایک غلام جن کی ضرورت ہے۔وہ یہ مجھنے سے قاصر ہیں کہ جس قسم کے عیسی کی وہ امید لگائے بیٹھے ہیں تمام سلسلہ انبیاء میں آج تک کبھی کوئی ایک بھی ایسا مبعوث نہیں ہوا۔قرآن کریم یا دیگر الہامی کتب میں کسی بھی ایسے نبی کا ذکر نہیں ملتا جو اپنی قوم کے غلبہ کیلئے تن تنہا لڑا ہو اور اس کی قوم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی ہو۔یہی مطالبہ یہود نے حضرت موسی سے کیا تھا لیکن اسے رڈ کر دیا گیا تھا۔اگر کسی مذہب کی آخری فتح بغیر قربانی اور بغیر کسی محنت کے حاصل ہو سکتی ہے تو پھر کسی نبی کی ضرورت ہی کیا ہے۔نبی تو ہمیشہ قربانیوں کی طرف ہی بلایا کرتا ہے۔ان علماء کا اس قسم کے شاہ خرچ عیسی کا تصور کسی جن بھوت کے تصور کے مشابہ تو ہو سکتا ہے لیکن ایک آسمانی مصلح کے مشابہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ان کا اصل مسئلہ ایک پرانے یا نئے نبی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں بلکہ جن اور نبی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا ہے۔ان کا یہ طرز عمل ایک مشہور الف لیلوی داستان کی یاد تازہ کرتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جادوگر ، پھیری والے کے لباس میں بغداد کی گلیوں میں یہ آواز لگاتا پھرتا تھا کہ پرانے چراغ کے بدلے نئے چراغ لے لو۔پرانے چراغ کے بدلے نئے چراغ لے لو۔“‘ بہت سی خواتین یہ آواز سن کر باہر آئیں تا کہ پرانے چراغ کے بدلے نیا چراغ حاصل کر سکیں۔ان کے خیال میں واقعہ یہ ایک اچھا سودا تھا۔تاہم اس میں ایک استثناء بھی تھا اور وہ یہ کہ ان خواتین میں سے ایک کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے پرانے چراغ میں جو اس نے اس جادو گر کو دے دیا، ایک لامحدود طاقتوں والا جن مقید ہے۔اس کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس چراغ کا