الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 638
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 607 منسوب کرنے کی جرات کی جائے۔انسان حیران رہ جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دماغ کس مادہ سے بنے ہوئے ہیں؟ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس وہم سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا حاصل کر لیں اور وہ ملاں بھی جو اس میں رنگ آمیزی کرتے رہے ہیں نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔ان لوگوں کے دور کے خاتمہ ہی سے دراصل احیائے اسلام کا دور شروع ہوگا۔الله آخری لیکن نہایت اہم اعتراض اس نظریہ پر یہ اٹھتا ہے کہ اگر بنی اسرائیل کے ایک نبی کو کسی طرح تراش خراش کر امت مسلمہ کا نبی قرار دے بھی دیا جائے تو قدامت پسند علماء یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ حضرت عیسی کی زمین سے غیر حاضری کے زمانہ میں قرآن کریم کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ساتھ حضرت عیسی پر بھی نزول ایک ناممکن اور نا قابل قبول امر ہے۔تنقید کا یہ زاویہ علماء کیلئے بہت سے مشکل سوال اٹھاتا ہے۔سب سے اہم سوال تو حضرت عیسی کے حلقہ اسلام میں داخل ہونے کا ہے۔کب اور کس نے انہیں بتایا کہ نیچے صفحہ زمین پر سب سے بڑا اور عظیم بنی ظاہر ہو گیا ہے۔کیا آپ نے آنحضرت ﷺ کی سچائی کی فورا تصدیق کر دی تھی اور مومن بن گئے تھے؟ اگر آپ واقعہ یہ خبر سنتے ہی فوراً ایمان لے آئے تھے تو آپ پہلے خلائی مومن ہوں گے۔لیکن سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم حاصل کئے بغیر آپ نے اس پر عمل کرنا کہاں سے سیکھا؟ لہذا یہ بنیادی سوال کہ کیا قرآن کریم حضرت عیسی پر براہ راست خدا تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل کی وساطت سے نازل کیا گیا تھا، بہت ہی اہم ہے اور اس کا جواب دیا جانا اتنا ہی ضروری بھی ہے۔اگر تو قرآن کریم آپ پر اس وقت نازل کیا گیا جب آپ ابھی آسمان پر ہی تھے تو اس صورت میں آپ یقیناً آنحضرت ﷺ کی نبوت میں شریک ہو جاتے ہیں جیسا کہ حضرت ہارون حضرت موسی کی نبوت میں شریک تھے اور دونوں کا مقام و مرتبہ تقریباً ایک جیسا ہی تھا۔اور اگر قرآن کریم براہ راست آپ پر جبرائیل کے ذریعہ نازل نہیں کیا گیا تھا تو زمین پر نزول سے پہلے آپ کے ایمان کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا اس وقت تک آپ اپنی گزشتہ تعلیم پر ہی کار بند ہوں گے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کب کا اسلام کو تمام بنی نوع انسان کیلئے آخری عالمگیر مذہب قرار دے چکا ہے۔یا کیا آپ سے کوئی استثنائی سلوک روا رکھا گیا ہو گا اور بانی اسلام ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد