الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 637
606 حضرت عيسى عليه السلام اور ختم نبوت کہ براہ کرم آپ اپنے جہاز کا رخ اسرائیل کی طرف موڑ لیجئے۔اور یہ بھی کہا جائے کہ اگر آپ اتنے ہی بہادر ہیں کہ آپ دوبارہ یہودی عدالت کا سامنا کر سکتے ہوں تو جایئے وہاں جا کر اپنا تشخص ثابت کیجئے۔“ انسان سوچتا ہے کہ ان تازہ ترین بدلے ہوئے حالات میں خدا تعالیٰ کیا ارشاد فرمائے گا۔کیا وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ جلدی سے جا کر حضرت عیسی کو بچاؤ اور انہیں واپس اپنی اسی آسمانی قرارگاہ پر پہنچا دو یا خدا تعالیٰ انہیں مسلم یا یہودی علماء کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا؟ کیا آپ اسرائیل میں اسرائیلی سپاہیوں کے ہاتھوں دوبارہ مصلوب ہوں گے یا پھر کسی مسلم جلا د کے ہاتھوں تختہ دار پر لٹکا دیئے جائیں گے؟ ان تمام سوالات کا جواب مستقبل ہی دے سکتا ہے بشرطیکہ آپ اس دکھ بھری دنیا میں دوبارہ تشریف لے آئیں۔قصہ مختصر، آپ کی بعثت ثانیہ بھی بعثت اولی سے کہیں بڑھ کر نا کام ہوگی۔ہم خلوص نیت سے قاری کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ جب مذہب کی تشریح کسی معقولیت کے بغیر کی جائے اور ایمان سے عقل کا خانہ خالی ہو جائے تو بے حقیقت افسانے اور بے بنیا د روایات جنم لیا کرتی ہیں اور مذہب کے شعور سے عاری ٹھیکیدار خدائی حکمتوں کو مضحکہ خیز رنگ میں پیش کرنا شروع کر دیا کرتے ہیں۔بے شک قرون وسطی کے بڑے بڑے علماء جوان پیشگوئیوں کا صحیح مفہوم سمجھنے سے قاصر رہے جائز طور پر معذور قرار دیے جاسکتے ہیں کیونکہ ان کا دور ایک مختلف دور تھا اور کائنات کے متعلق ان کا علم محض ظنی تھا۔لیکن عصر حاضر کے دقیانوسی علماء جو روشن خیالی کے اس جدید دور میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے ان کیلئے تو ہر گز کوئی جواز نہیں کہ وہ ان پیشگوئیوں کی ایسی غلط تفسیر کریں۔خدا کے بچے بندے حضرت عیسی کی مقدس روح یقینا اپنے رب کی طرف لوٹ گئی تا وہ اپنے مقررہ اعلیٰ روحانی مقام پر قرار پکڑے۔لیکن وہ عیسی جس کے یہ منتظر ہیں وہ تو محض ان کے ذہنوں کی خام خیالی ہے۔کسی کو اس سے کیا غرض کہ یہ خیالی وجود صلیب پر لٹکایا جائے، پنجر سے مارا جائے یا ہزار بار پھانسی دے دیا جائے۔حضرت عیسی کا جسمانی رفع اور ان کا آسمان میں کسی جگہ محفوظ رہنا اور مستقبل میں بطور نبی ان کا دوبارہ ظہور، انسانی عقل و فہم پر نہایت شاق گزرتا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ ایسی احمقانہ بات خدائے علیم وحکیم کی طرف