الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 589
558 طاعون کا نشان مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے ہر قول وفعل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینے اور اسے ریکارڈ کر لینے کے عادی تھے۔ہر وہ امر جس سے آپ کے خلاف اشتعال انگیزی کی جاسکتی تھی اسے خوب اچھالا جاتا۔یہ اشتعال انگیزی صرف غیر احمدی صحافتی دنیا تک محدود نہ تھی بلکہ عیسائیوں اور ہندوؤں نے بھی اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور آپ کی مذمت اور مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔جماعت احمدیہ کی طرف سے طاعون کے بارہ میں پیش کئے جانے والے حقائق اور اعداد وشمار میں اگر خفیف سی بھی غلطی ہوتی تو یہ ناممکن تھا کہ متعصب غیر احمدی صحافتی دنیا اس کو نظر انداز کر دیتی۔پنجاب میں کم و بیش سات سال طاعون کا دور دورہ رہا۔اس دوران حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے احمدیوں سے متعلق طاعون کے نتائج کے بارہ میں عامتہ الناس کی توجه مسلسل برقرار رکھی۔کئی معروف معاندین سے آپ کا مباہلہ ہوا اور دونوں جانب سے اس بارہ میں دعویٰ اور جواب دعویٰ شائع ہوتا رہا کہ فریقین میں سے کون خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے گا۔بہت سے مخالفین ایک ایک کر کے مرتے چلے گئے جبکہ باقی خوف ورجا کی حالت میں رہے۔مگر طاعون نے آپ کو چھوا تک نہیں اور نہ ہی آپ کی اہلیہ کو۔اسی طرح آپ کی تمام اولا د بھی طاعون سے محفوظ رہی حتی کہ آپ کے گھر کی چاردیواری میں ایک چوہا تک نہیں مرا۔آپ نے ان حقائق کو بار بار مشتہر کیا جس سے مخالفین میں مخالفت کی آگ اور بھی بھڑک اٹھی اور انہوں نے زور شور سے بددعائیں کیں کہ آپ طاعون کا شکار ہوں مگر سب بے سود۔آپ اور وہ سب لوگ جو آپ کے ظاہری اور روحانی گھر میں مقیم تھے اس بلا سے محفوظ رہے۔کیا کوئی شخص کسی اخبار، رسالہ یا کتاب میں سے ایک سطر بھی نکال کر دکھا سکتا ہے جو ان حقائق کو جھٹلاتی ہو اور آپ کے خاندان یا آپ کے گھر میں بسنے والے افراد میں سے کسی ایک کا نام پیش کر سکتا ہے جو طاعون کا شکار ہوا ہو؟ یہ بات ہمیں اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع شدہ تمام لٹریچر میں نظر آتی ہے جس میں اس قسم کے کسی سانحہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان اور آپ کے ساتھ رہنے والے لوگوں میں سے کسی ایک کی وفات کا بھی ذکر موجود نہیں۔یہ امر