الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 580
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 549 نتائج اس قدر مختلف ہیں کہ توقعات پر بالکل ہی پورے نہیں اترتے۔تاہم معاملہ ابھی ہاتھ سے نہیں نکلا۔بیکٹیریا اور فصلوں کی بعض مخصوص اقسام پر کئے جانے والے تجربات زرعی پیداوار اور بیماریوں سے دفاع میں مفید ثابت ہو رہے ہیں۔لیکن ان عارضی کامیابیوں پر خوش ہو جانا قبل از وقت ہوگا۔نئی تیار کردہ یا تبدیل شدہ مصنوعی اقسام کا مستقبل کے ماحول پر کیا اثر ہوگا ، اس کا اندازہ اس وقت تک نہیں لگایا جا سکتا جب تک کہ عمل اور تاثر کا کئی نسلوں تک بغور مشاہدہ نہ کیا جائے۔ممکنہ تباہی کا خطرہ بہر حال حقیقی اور بہت بڑا ہے۔اگر جینیاتی انجنیئرنگ میں کئے جانے والے تجربات میں احتیاط سے کام نہ لیا گیا تو عین ممکن ہے کہ ان تجربات کے نتیجہ میں غیر متوقع طور پر کوئی ایسی نوع وجود میں آجائے جو انسان کے کنٹرول سے باہر ہو۔جس تحدی سے قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کے نتیجہ میں پہنچنے والے عذاب سے ڈرایا ہے وہ کرہ ارض پر حیات کے مستقبل کیلئے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انسان خدا بنے کی کوشش کو کبھی ترک کرے گا بھی یا نہیں۔کیا مکمل تباہی کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے جو انسان کو عاجزی سکھا سکے؟ یہ استنباط بھی درست نہیں کہ یہ آیت جینیاتی انجنیئر نگ کے استعمال کو یکسر غلط قرار دیتی ہے۔سائنس کی کسی بھی ایسی شاخ کی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت اور اس میں تبدیلی کی بجائے اس کی حفاظت کیلئے کام کر رہی ہو۔مثلاً کسی حادثہ کے نتیجہ میں جیز میں پیدا ہونے والی خرابی کو ٹھیک کرنے کے لئے جینیاتی انجنیئر نگ کا استعمال کسی صورت میں بھی خدا تعالیٰ کے کاموں میں دخل اندازی قرار نہیں دیا جاسکتا۔اور کسی بیماری یا غلط ادویات کے استعمال کے نتیجہ میں جیز میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو جینیاتی انجنیئرنگ کے ذریعہ ٹھیک کرنے کی کوشش یقیناً مذکورہ بالا آیت کے منافی نہیں۔بہر حال کچھ بھی ہو، یہ بات انتہائی اہم ہے کہ سائنسدانوں کو خدائی تخلیق کے عظیم منصوبہ میں بے جادخل اندازی کی کھلی چھٹی ہر گز نہیں دی جانی چاہئے۔انہیں تو شکر گزار ہونا چاہئے کہ ابھی تک کوئی شدید حادثہ رونما نہیں ہوا۔اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو سراسر یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔ہم دنیا کی حکومتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ جینیاتی انجنیئر نگ کے میدان میں ہونے والے