الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 31

الهام ، عقل ، علم اور سچائی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ان کی اس قسم کی موشگافیوں کو زیادہ سے زیادہ لایعنی اور بے 31 دانشوری کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔چند ایک بے کار قسم کے سوالات بھی تھے جو ان لوگوں کے نزدیک بے حد اہم تھے۔ذہنوں کے اضطراب اور مشتعل جذبات کے ہاتھوں خاک و خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی۔مثال کے طور پر ایک بیہودہ امر اور بے مصرف سوال یہ بھی تھا کہ اگر ایک کتا کنوئیں میں گر جائے تو اس میں سے پانی کی کتنی بالٹیاں نکالی جائیں کہ باقی ماندہ پانی وضو کے قابل ہو جائے۔یہ وہ اہم ترین سوال تھا جو اس دور کے علماء کرام کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔یہ محض کہتے پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ اگر کوئی مخالف علماء کے فتوی کفر کی زد میں آیا ہوا مولوی کنوئیں میں جا گرے تو ذرا سوچئے کہ مسئلہ کتنی سنگین صورتِ حال اختیار کر جاتا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علم ریاضی کے کسی پیچیدہ کلیہ کے مطابق پانی کو پاک کرنے کیلئے کتنی بالٹیاں نکالی جائیں۔بہت سے اس کنوئیں کو مٹی سے پاٹنے کو ترجیح دیتے اور نتیجہ یہ کنواں مولوی صاحب کا مقبرہ بن کر رہ جاتا۔یہ وہ دور تھا اور یہ وہ نا قابل یقین کہانیاں ہیں جن کی دیوار میں تشدد اور عدم برداشت کے جنون پر استوار تھیں۔بظاہر یہ کہانیاں عجیب وغریب دکھائی دیتی ہیں تاہم انہیں سراسر جھوٹ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اس دور کا علم فقہ دیوانگی کا شکار ہو کر رہ گیا تھا۔فقہاء ایسی بے معنی اور لغو بحثوں میں پڑے ہوئے تھے جن کی وجہ سے نماز جیسا مقدس مذہبی فریضہ بھی گویا ایک مذاق بن چکا تھا۔نماز کی دوسری رکعت میں قعدہ کی حالت میں مسلمان ہمیشہ تشہد پڑھتے ہیں۔بعض لوگ تشہد پڑھتے ہوئے شہادت کی انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ بعض ایسا نہیں کرتے۔اس دور کے فقہاء میں اس مسئلہ پر بھی شدید اختلاف پایا جاتا تھا اور وہ اس مظلوم انگلی کو سزا دینے پر تلے ہوئے تھے جوان کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بنی تھی۔ان کا متفقہ فتویٰ تھا کہ ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے والی اس غریب انگلی کو خواہ وہ اٹھے یا نہ اٹھے، بہر حال کاٹ دیا جائے۔ماسوا اس کے ان میں ہر بات میں اختلاف تھا۔ان حالات میں دوسرے مسلک کی مساجد