الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 32
32 اسلامی مکاتب فکر میں جانا خطرہ سے خالی نہ تھا جہاں داخل ہونا تو یقیناً کوئی مسئلہ نہیں تھا، اصل مسئلہ تو باہر نکلنے کا تھا۔کیونکہ عین ممکن تھا کہ باہر آتے ہوئے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ پانچ انگلیوں میں سے ایک کم ہو چکی ہو۔تیسرا فروعی نوعیت کا مسئلہ " آمین" کہنے سے متعلق تھا جو امام کے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد کہی جاتی ہے۔بنیادی بحث یہ تھی کہ آمین بالجہر کہنی چاہئے یا زیر لب۔عین ممکن تھا کہ ایک ایسی مسجد میں جہاں آمین بالجہر کہنا سنگین جرم سمجھا جاتا تھا بلند آواز میں آمین کہنے والوں کو زدوکوب کیا جائے۔اسی طرح آمین بالجہر کہنے والوں کے درمیان آمین زیرلب کہنا بھی کچھ کم اشتعال انگیز نہ تھا۔ان مذہبی اختلافات میں سے جس مسئلہ نے خطرناک صورت اختیار کی وہ قرآن کریم کے مخلوق ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ تھا۔مخالفانہ نظریات رکھنے والے بلا شک و شبہ گردن زدنی سمجھے جاتے تھے۔لیکن یہ سب کچھ اتفاق یعنی چانس پر منحصر تھا۔اگر بادشاہ وقت قرآن کریم کو مخلوق نہ ماننے والوں کا حامی ہوتا تو مخالف عقیدہ رکھنے والے نہ صرف قتل کر دیئے جاتے بلکہ گھروں میں زندہ جلا دیئے جاتے۔اگر دوسروں کی قسمت یاوری کرتی تو تشدد کرنے والے خود تشدد کا شکار ہو جاتے۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وہ لوگ جنہیں فوت اور دفن ہوئے عرصہ گزر چکا تھا ان کی قبریں اکھیٹر کر نعشیں باہر نکالی گئیں اور انہیں سر عام پھانسی دی گئی تا کہ وہ لوگ جو زندہ ہیں اس سے عبرت پکڑیں۔لیکن اس صورت حال سے کیا نتیجہ نکل سکتا تھا؟ ہنڈولے کے اس کھیل میں کون محفوظ تھا اور کون غیر محفوظ۔یہ ایک لا منخل سوال تھا۔البتہ جو بھی ان فضول جھگڑوں میں اتنی سنجیدگی سے حصہ لیتے ان کی زندگی بہر حال اس دنیا میں جہنم بن کر رہ جاتی۔یعنی جس جہنم سے ان کے مخالفین انہیں ڈرایا کرتے تھے اس کا مزہ وہ اسی دنیا میں چکھ لیتے تھے اور انہیں موت کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ازمنہ وسطیٰ کی صدیوں پر محیط تاریکی کے مہیب سائے دور دور تک پھیلنا شروع ہوئے یہاں تک کہ دنیائے اسلام جو عرب کے ریگزاروں سے طلوع ہونے والے آفتاب عالمتاب کی بدولت تاریکی سے نکل کر روشنی میں آن کھڑی ہوئی تھی ایک بار پھر جہالت کے عمیق گڑھے میں جا گری۔اسلام کا تصور تناظر اور زوایہ نگاہ کے بدلنے سے تاریک اور اداس راتوں میں دور کائنات میں نظر آنے والے جھلملاتے اور رنگ بدلتے ستاروں کی مانند بدلنا شروع ہو گیا۔اسلام کی پہلی سی شان و شوکت اور قوت باقی نہ رہی۔