الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 28

28 اسلامی مکاتب فکر مزعومہ تضاد کے خطرہ سے کبھی بھی کھل کر مقابلہ کی نوبت نہیں آئی۔یہی وجہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی فوقیت کا معاملہ سنجیدگی سے زیر غور نہیں آیا۔عدم تصادم کی یہ حکمت عملی جو ہسپانیہ میں صدیوں تک غالب رہی ابن رشد ہی کی مرہون منت ہے۔بعد کے واقعات کی روشنی میں اس مسئلہ کے ممکنہ پہلوؤں کا از سر نو جائزہ لیا جائے تو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ابھی اس قسم کے مسائل کو سلجھانے کا وقت نہیں آیا تھا۔اس امر کا امکان بہر حال موجود تھا کہ حقائق کا ادراک ناقص ہو یا محض جزوی بلکہ عین ممکن تھا کہ یہ ادراک سرے سے ہی غلط ہو۔مثال کے طور پر ازمنہ وسطی کے مسلمان سائنسدانوں کا تصور کائنات قرآن کریم اور احادیث پر مبنی نہیں تھا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ تصور زیادہ تر اپنے دور کی مروجہ جہالت کا آئینہ دار تھا۔جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے، مذہبی علماء اپنے نظریات کو عین اسلام سمجھتے تھے اور انہیں حتمی قرار دیتے تھے۔حالانکہ امر واقعہ یہ تھا کہ علوم متداولہ کے حوالہ سے حقیقی قرآنی نظریات کی تفہیم ان کی بساط سے باہر تھی۔ہسپانیہ میں سائنسدانوں اور مذہبی علماء کے مابین اس قسم کے موضوعات پر کسی مکالمہ یا گفتگو کا سراغ نہیں ملتا۔ان دونوں گروہوں میں علمی تبادلہ خیال کیلئے کوئی ادارہ یا مرکز نہیں تھا اور نہ ہی اپنے اپنے نظریات کی تقابلی خوبیوں کے بارہ میں کوئی مناظرہ یا مباحثہ ممکن تھا۔یہی وجہ تھی کہ ہسپانیہ میں گیلیلیو کا کوئی پیش رو پیدا نہ ہو سکا جسے صداقت اور زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا۔سائنسدانوں کو جب بھی اپنے ہمعصر علماء کے سامنے حق کو حق کہنے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے مذہبی علماء کے سامنے کسی قسم کی وضاحت پیش کرنے کی کوشش تک نہیں کی اور نہ ہی یہ بات ثابت کرنا ضروری سمجھی کہ ان علماء کی پیش کردہ قرآنی تشریح غلط اور معروف سائنسی حقیقتوں سے متصادم ہے۔نتیجه دو متوازی تحریکوں کا ارتقا ہوا جن میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اختلافات کی خلیج بڑھتی چلی گئی۔بالآخر اسلامی سوچ نے فلسفیانہ اور سائنسی طرز فکر سے بالکل علیحدہ راستہ اختیار کر لیا۔وہ دو ایسی ندیوں کی طرح تھے جو ایک دوسرے میں مدغم ہوئے بغیر متوازی بہ رہی ہوں۔چنانچہ اندلس کے مسلمان سائنسی تحقیق کے اکثر میدانوں میں دوسرے اسلامی ممالک سے سبقت لے گئے۔ایک خوش کن بات یہ بھی تھی کہ ہسپانیہ نے نسبتا ایک طویل پر امن زمانہ پایا جس