الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 480
458 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق کرتے ہیں جو بعض کے نزدیک چمپینزی (chimpanzee) اور بعض کے نزدیک گوریلا ہے۔اگر چہ یہ بیچ ہے کہ بندروں کی بعض انواع میں دُم موجود نہیں۔لیکن سوال دُم کے ہونے یا نہ ہونے کا نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ انسان اور جانوروں کے کردار اور ذہنی قومی کے درمیان جو اس قدر وسیع خلا حائل ہے اس کی تشریح کیسے ممکن ہے؟ کونسا جانور ہے جس نے پڑھنا لکھنا سیکھا ہو اور انسان کی طرح ترقی یافتہ زبان میں اپنا مدعا بیان کر سکتا ہو؟ انسان اور حیوان کے درمیان اگر کسی بھی پہلو سے موازنہ کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ جانوروں کے مقابلہ میں انسانی قومی اربوں گنا ترقی یافتہ ہیں۔اور حقائق کو دیکھا جائے تو یہ اندازہ بھی محتاط نظر آئے گا۔دنیا بھر کی لائبریریوں میں موجود کتب اور ان کے مندرجات پر ایک نگاہ ڈالیں۔کوئی سائنسدان کسی گوریلا کے غار یا چیمپینزی کی رہائش میں موجود کسی برائے نام منھی منی لائبریری کا نام ونشان تک تو دکھائے جس میں ان دونوں میں سے کسی ایک کا لکھا ہوا ایک صفحہ ہی کسی خانے میں محفوظ پڑا ہو۔اگر ایسا ممکن ہو تو ہم تسلیم کر لیں گے کہ ہمارا بیان مبالغہ آمیز تھا۔لوگ جانوروں کی زبان کی بات کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ زبانیں محض چند اشارے ہیں جن میں شعوری کوشش کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ڈالفن کے بارہ میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی زبان کی نقل کرتے ہوئے چند الفاظ بول لیتی ہے۔جس قدر تنوع انسانی زبانوں میں پایا جاتا ہے عالم حیوانات میں اس کا سراغ تک نہیں ملتا۔ہو سکتا ہے پروفیسر ڈاکنز کا فرضی بندر ان کے کمپیوٹر کے Keyboard کو بلا سوچے سمجھے دبا کر شیکسپئر کے ڈرامہ کا کوئی جملہ لکھ لے۔لیکن اتفاقاً لکھے جانے والے اس ایک جملہ کیلئے نہ صرف بیحد طویل وقت درکار ہوگا بلکہ ایسا ہونا عملاً ناممکنات میں سے ہے۔یہ بات نا قابل فہم ہے کہ پروفیسر موصوف کو اس کام کیلئے کسی فرضی بندر کی کیا ضرورت تھی جبکہ اصلی بندر بآسانی دستیاب تھے۔انہیں چاہئے تھا کہ اصلی بندر کو Keyboard کا استعمال سکھائے بغیر کمپیوٹر کے قریب کسی جگہ باندھ دیتے۔اگلی صبح کو جب وہ اپنے تجربہ کا نتیجہ دیکھنے کیلئے تشریف لاتے تو شیکسپئر کے کسی فقرہ کی بجائے ان کے سامنے کمپیوٹر کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہوتے۔ہمارے خیال میں اس تجربہ کے لئے یہ وقت بہت کم ہوگا۔لہذا انہیں روزانہ ایک نیا کمپیوٹر بندر کے پاس رکھنا پڑتا یہاں تک کہ بندر