الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 464
444 عضویاتی نظام اور ارتقا ایسا کام ہے جو انسان کی بنائی ہوئی فلموں اور وڈیو ٹیپس کے بس سے باہر ہے۔بصارت کے مرکزی حصہ میں اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب کام ہو رہے ہیں۔یہ پورے کے پورے عکس کو دماغ کے پیچیدہ اور نازک فائلنگ سسٹم میں فی الفور محفوظ رکھتا ہے۔ایک شخص کی زندگی میں ایسی اربوں م نہیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ایک صحیح الذہین آدمی اپنے بچپن کے کسی واقعہ کو بعینہ اس کی اصلی حالت اور شکل وصورت میں اپنی یادداشت میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔اسی طرح کسی خاص عکس سے متعلقہ محرکات بھی خواہ وہ کتنے ہی پرانے کیوں نہ ہوں عکس کے ساتھ ہی دوبارہ یاد آجاتے ہیں۔چنانچہ بصری نظام کا تیسر ا عضو د ماغ خود ہے۔مختلف جانوروں میں خوف کے محرکات پر گہری تحقیق کی گئی ہے کہ کس طرح یہ محرکات دماغ کے سماعت اور بصارت کے حصوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سماعت اور بصارت کی وجہ سے پیدا ہونے والے خوف کے نقوش دماغ کی متعلقہ بافتوں پر مستقل طور پر ثبت ہو جاتے ہیں۔اگر چہ ماہرین نفسیات کی کوششوں یا ادویات کے ذریعہ اس کا رد عمل کسی حد تک کم تو کیا جا سکتا ہے مگر یہ نقش اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔عصر جدید کے سائنسدانوں کی بصری نظام کو مکمل طور پر سمجھنے کی ساری کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔انسان کا ایجاد کردہ کوئی بھی سمعی یا بصری نظام جو مذکورہ بالا تین اعضاء پر مشتمل ہو اپنی نزاکت اور پیچیدگی میں ان حیرت انگیز اور باہم مربوط مشینوں کا ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتا۔ماہرین حیاتیات کو دراصل اس بات پر تحقیق کرنی چاہئے کہ اس نظام میں کونسی فطری قو تیں ایک مربوط تخلیقی کردار ادا کر رہی ہیں۔دراصل ایسا وہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس صورت میں یہ اہم مربوط نظام ڈارون کی بجائے خدا تعالی کی ہستی کی موجودگی پر دلالت کرے گا۔یہاں اندرونی حیاتیات اور زندگی کے میکانکی نظام (mcchanism) کا ذکر ہورہا ہے نہ کہ بیرونی اندھی قوتوں کا جن کا اس میکانکی نظام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں بصارت کا آغاز محض آنکھ کی تخلیق سے نہیں ہوتا۔یہ ایک مخلوط (composite) احساس ہے جو جانور کی عضویاتی نشو ونما پر مبیج ہوتا ہے۔حال ہی میں سمندر میں سینکڑوں میٹر نیچے بہت سے تحقیقاتی سائنسی تجربات کئے گئے ہیں اور اس تحقیق کو کئی کلو میٹر نیچے سمندر کی تہ تک پھیلا دیا گیا ہے۔سطح سمندر سے دو سو میٹر نیچے روشنی عملاً ختم ہو جاتی ہے۔مگر ان