الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 21

الهام ، عقل ، علم اور سچائی ا 21 توجیہ و تشریح کے مددگار کے طور پر حاصل ہو گی۔ان کا موقف یہ تھا کہ قرآن وسنت کی معروف تشبیہات، استعارات اور علامات کو سمجھے بغیر سچائی تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔مثلاً انہوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ اور اس کے چہرے سے مراد اس کی طاقت اور شان و شوکت ہے علی ھذا القیاس۔الاشعری کا اپنا موقف تھا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں صفات الہیہ کا تذکرہ ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفات مراد ہیں اگر چہ ان کی پوری حقیقت کا ہمیں علم نہیں۔لیکن انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان اصطلاحات سے ظاہری خد و خال مراد نہیں۔اگر چہ تحریک معتزلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے نویں صدی سے سترھویں صدی عیسوی تک یورپی مکاتب فکر سے مماثل دکھائی دیتی ہے لیکن اس نے کوئی ایسا الحاد یا بدعت کا رنگ اختیار نہیں کیا جیسا کہ یورپ میں عقلیت پسندی نے اپنے مسلسل انحطاط کے زمانہ میں اختیار کیا۔معتزلہ نے اپنے دلائل کے حق میں ہمیشہ قرآن وسنت کے حقیقی سرچشموں سے ہی استنباط کیا اور خود کو کبھی ان سے الگ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان سے منسلک رہے۔آج معتزلہ اور اشعریہ کے نقطہ نظر میں کوئی واضح فرق نہیں رہا۔اگر چہ مذکورہ بالا تاریخی پس منظر نے عصر حاضر کے علماء کی علمی کاوشوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں لیکن ماضی کی واضح تفریق کے نقوش اب دھندلا چکے ہیں۔عصر حاضر کے علماء گزشتہ فرقہ وارانہ مکاتب فکر کے مقابل پر اپنے ذاتی نقطہ نظر کو ترجیح دیتے ہیں تاہم دور گزشتہ کی باقیات کے کچھ آثار اب بھی کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔یہ باقیات وہ ہیں جو ایک لمبے عرصہ پر محیط مختلف مکاتب فکر کی باہمی افہام و تفہیم کا ثمر ہیں۔ان میں سے بعض تو قطعی طور پر قرون وسطی کی سوچ کے حامل ہیں۔لیکن وہ اپنے موقف کی تائید میں اگر چہ کسی واحد پرانے مکتبہ فکر پر کلیۂ انحصار نہیں کرتے لیکن اپنی تائید میں کسی نہ کسی مکتبہ فکر کے عالم کی تلاش میں سرگرداں ضرور رہا کرتے ہیں۔ان کیلئے قرون وسطی کے مختلف فرقوں کے مابین پائی جانے والی حدود تو اب مفقود ہو چکی ہیں مگر ان کے نزدیک ازمنہ وسطی کے دقیانوسی خیالات سے آج بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔یہی بات کسی حد تک نام نہاد جدت پسندوں کے بارہ میں بھی کہی جاسکتی ہے جو ایک طرف تو بڑی بے باکی سے ذاتی