الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 18
18 اسلامی مکاتب فکر ان مختلف فلسفوں میں دلچسپی اور ان کی قرآنی آیات سے مطابقت کی خواہش نے نئے مکاتب فکر کو جنم دیا جو اس لئے اسلامی کہلائے کہ ابتدائی طور پر یہ مکتبہ ہائے فکر اسلامی سوچ تعلیم اور عقائد کی گود میں پروان چڑھے تھے۔نتیجہ بدیشی فلسفہ کا کلی قرآنی مطالعہ پر مبنی خیالات سے اختلاط شروع ہوا۔اس حقیقت کے باوجود کہ چند تنگ نظر علماء نے ان کے وسیع النظر اور لچکدار رویہ کے باعث ان پر غیر اسلامی ہونے کی مہر لگا دی تھی اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ عظیم علماء بنیادی طور پر مسلمان ہی تھے۔مختلف دنیوی علوم سے ان کا تعلق شاذ ہی ان کے ایمان کی راہ میں حائل ہوا ہو گا۔اس لحاظ سے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن وسنت کے مطالعہ کے بعد خود فیصلہ کرے کہ ایسے مفکرین کا پیش کردہ فلسفیانہ نقطہ نظر اسلامی ہے یا نہیں۔تاہم ان کے اخذ کردہ نتائج ہمیشہ بحث طلب رہے ہیں۔بعض کے نزدیک یہ نتائج اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں اور بعض کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔تاہم کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کی نیتوں پر شک کرے۔سچائی کے ہر متلاشی کا یہ حق ہے کہ قرآن اور سنت کو گہرائی میں جا کر سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کے بعد اپنے نتائج اخذ کرے۔اسی طرح دوسروں کو بھی اس سے اختلاف کا حق حاصل ہے۔لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے کو اس بنیادی حق سے محروم کر دے کہ وہ جس چیز پر چاہے ایمان لائے اور خود کو حق پر سمجھے۔اب ہم بعض اسلامی مکاتب فکر کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں جو ایک ہی ماخذ سے مختلف نتائج اخذ کرنے کی وجہ سے معرض وجود میں آئے۔تاہم یاد رہے کہ قرآن وسنت پر مبنی ہونے کا دعوی کرنے والے ہر مکتبہ فکر کو براہ راست ان شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہئے جو وہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہے۔اسلامی حکومت کے دور میں پہنچنے والے تمام نظریات اور نقطہ ہائے نظر کو فی ذاتہ اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ان میں سے کچھ جزوی طور پر متضاد بلکہ ایک دوسرے کے بالکل برعکس تھے۔تاہم یہ بات ان کو اس حق سے محروم نہیں کرتی کہ ان کے ماننے والے ان کا حوالہ دیتے وقت ان کو اسلامی قرار دیں۔الاشعریہ مکتبہ فکر امام ابوالحسن علی بن اسمعیل الاشعری (260 تا 330ھ ) کا الا شعر یہ مرہون منت ہے کہ انہوں نے اسے مروجہ مکاتب فکر میں ایک منفرد اور نمایاں