الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 418
406 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح اگر خدا تعالیٰ کے وجود کو زندگی کی اس پیچیدہ سکیم سے نکال دیا جائے تو پھر اس کی بجائے کوئی دوسرا خالق ضرور تلاش کرنا پڑے گا۔اگر صرف بے جان کا ئنات کے راز کو ہی لیا جائے تو اس میں زمین جیسے سیارہ پر پائے جانے والے زندہ عجائبات اس دست قدرت کیلئے بزبان حال پکار اٹھیں گے جس نے انہیں تشکیل دیا اور ان کے وجود میں ایسا پیچیدہ نظام جاری فرمایا۔اگر ہستی باری تعالیٰ کو درمیان سے نکال دیا جائے تو ان کی فریادیں ہمیشہ محض ایک گنبد بے در سے ٹکراتی رہیں گی۔ایک بات بہر حال یقینی ہے کہ زندگی از خود پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی موت حیات کی خالق ہے۔انتخاب طبعی میں نہ تو شعور ہے اور نہ ہی حیات کے آثار۔اس کی حقیقت کشش ثقل جیسے مظہر سے زیادہ نہیں جو ایک چٹان کو گہری کھائی میں گرا سکتی ہے اس بات کا خیال کئے بغیر کہ وہ کسی ہرن پر جا کر گرے گی یا سیبہ (Porcupine) پر۔