الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 379
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 371 مختلف انواع کے مابین بھی مخصوص حالات میں زندہ بچ جانے والے جانداروں کا انتخاب محض اتفاق کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔بقا کیلئے اندھی جد و جہد کبھی موزوں خصوصیات کا انتخاب نہیں کر سکتی۔اس جد و جہد کا ماحصل خواہ اچھا ہو یا برا، اُسے بہر حال موزوں ترین“ کے طور پر ہی قبول کرنا ہوگا۔بقا کی اہلیت کے حوالہ سے کسی خاص نوع کو ایک خاص ماحول میں ہی کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے اور مین ممکن ہے کہ معدوم ہو جانے والی انواع کسی دوسرے اعتبار سے بہتر خصوصیات کی حامل ہوں۔مثلاً ایک گوریلے کے مقابلہ میں جسے قطب شمالی کے مخالف ماحول میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جائے برفانی ریچھ اور لومڑیوں کیلئے بقا کے زیادہ مواقع موجود ہیں۔اس مخصوص مثال میں گوریلے کو برفانی ریچھ اور لومڑیوں کے مقابلہ میں بہتر ہونے کے باوجود محض انتخاب طبعی کے ذریعہ ایک ناکارہ چیز کی طرح ختم کر دیا جائے گا۔ایسے ہی فرضی ماحول میں گوریلے کی جگہ اگر انسان ہو تو وہ بھی بقائے اصلح کے اصول کے تحت گوریلے کی نسبت بہت جلد معدوم ہو جائے گا۔پس یہ خیال غلط ہے کہ انتخاب طبعی کا عمل کسی اعلیٰ معیار کوملحوظ خاطر رکھتا ہے۔یہ ضرب المثل کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس انتخاب طبعی کے عمل کی بہترین تشریح ہے۔یعنی جیت ہمیشہ طاقتور ہی کی ہوتی ہے۔طاقتور the خواہ کتنا ہی براہ کجرو، جابر اور بے رحم کیوں نہ ہو انتخاب طبعی کے تحت کامران ہمیشہ وہی ہوگا۔اگر ہم حیات کی تمام اقسام کے حوالہ سے ارتقا کی تاریخ کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ انتخاب طبعی اور بقائے اصلح کے اصول کس طرح کار فرما ہیں تو اس کیلئے لاکھوں صفحات پر مشتمل ضخیم کتابوں اور سائنسدانوں کی کئی نسلیں درکار ہوں گی۔تاہم قارئین کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا ضروری ہے کہ اگر تمام مکنہ توجیہات کا جائزہ لیا جائے تو ارتقا کا مسلسل آگے کی طرف کا سفر ناممکن ہو جائے گا۔ایسے ہر موقع پر جہاں اس قسم کا امتیاز ضروری ہو جائے ایک اعلیٰ خصوصیت کے انتخاب کے لیے لاکھوں اتفاقات کی موجودگی درکار ہوگی۔اس کے برعکس صورت حال کو بھی سنجیدگی سے زیر غور لانا ہوگا۔اتفاقی تغیرات کا کسی بھی سمت کو اختیار کر سکنا کوئی اختلافی مسئلہ نہیں۔لیکن یہ ناممکن ہے کہ ارتقا کی معین منزل تک پہنچنے کیلئے ان تغیرات نے ہمیشہ درست رستہ کا ہی انتخاب کیا ہو۔پس اتفاقات کا کھیل تو محض اتفاقات کا کھیل ہے۔یہ قطعی طور پر ناممکن ہے کہ ارتقائی ضروریات کے تحت