الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 373
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 367 موجود حیات کی کمزور ترین انواع بھی آج تک باقی ہیں۔بعض انواع دوسری انواع کے بالمقابل صرف اس وقت معدوم ہوا کرتی ہیں جب جہد للبقا بہت سخت ہو جائے اور باہمی کشمکش کا رنگ اختیار کر لے۔بایں ہمہ اس کا ہمیشہ یہ نتیجہ ہی نہیں نکلا کرتا کہ اپنے مطلق معنوں میں صرف موزوں ترین ہی باقی رہتے ہوں۔”بقائے اصلح اپنے مطلق معنوں میں اگر چہ ممکن تو ہے لیکن بقا کی ہر جد و جہد میں ایسا ہونا بعید از قیاس ہے۔ان حالات میں وہی باقی رہتا ہے جو ایک خاص پہینچ کے سیاق و سباق میں موزوں ترین ہوا کرتا ہے۔وہ بدنصیب انواع جو ان مشکلات کا مقابلہ نہ کر سکیں عین ممکن ہے کہ وہ زندگی کی ایسی اعلیٰ خصوصیات کی حامل ہوں جن کی بنا پر انہیں کسی اور سیاق و سباق پر موزوں ترین قرار دیا جا سکے۔اس نکتہ کی مزید وضاحت کیلئے ایک ایسے عظیم قحط کا تصور کریں جو غیر معمولی خشک سالی کی وجہ سے ایک پورے براعظم پر محیط ہو۔اس قسم کی قحط سالی کا زمانہ اگر طول پکڑ جائے تو بہت سی انواع معدوم ہو جائیں گی۔اس صورت میں مختلف انواع کی بقا یا فنا کا انحصار ان حالات میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔مذکورہ بالا قحط سالی کے نتیجہ میں تقریباً ہر قسم کے پودے، درخت اور گھاس پھوس وغیرہ جن کی جڑیں چھوٹی ہوتی ہیں مکمل طور پر نیست و نابود ہو جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جوں جوں خشک سالی بڑھتی جائے گی توں توں زیر زمین پانی کی سطح گرتی چلی جائے گی حتیٰ کہ اوپر کی تہ بالکل خشک ہو جائے گی۔نتیجہ یہ کہ چھوٹی جڑوں میں پانی بالکل ختم ہو جائے گا۔لیکن لمبی اور گہری جڑیں رکھنے والے پودے اس قسم کی صورت حال کا شکار نہیں ہوں گے۔ایسی جڑیں شدید قحط سالی کے طویل زمانہ میں حیرت انگیز طور پر بہت گہری چلی جاتی ہیں۔بعض ماہرین آثار قدیمہ نے پہاڑوں میں ایسے غار دریافت کئے ہیں جن میں اس حقیقت کے شواہد موجود ہیں۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر پائے جانے والے بعض درختوں کی جڑیں پانی کی تلاش میں حیرت انگیز گہرائی تک اتر جاتی ہیں۔اسی طرح ریگستانوں میں بار بار کی طویل خشک سالی کے باوجود نخلستان کی بقا کا راز بھی یہی ہے کہ وہاں پر موجود درختوں کی جڑیں پانی کی تلاش میں بہت گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔متذکرہ بالا حالات میں چھوٹی جڑیں رکھنے والے پودوں، جڑی بوٹیوں، درختوں اور