الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 374

368 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح گھاس پھوس کا مکمل خاتمہ عین قرین قیاس ہے جبکہ لمبی اور گہری جڑیں رکھنے والے بعض درخت شدید خشک سالی کا مقابلہ بھی کر سکیں گے۔آیئے اب ہم چشم تصور سے دیکھیں کہ کڑی آزمائش کے اس دور میں اس براعظم میں عمومی طور پر جاندار کس صورت حال سے دو چار ہوں گے۔چرنے والے اکثر جانور جن کی گردن اور ٹانگیں چھوٹی ہوتی ہیں خشک سالی میں بھوک اور پیاس کی تاب نہ لا کر موت کا شکار ہو جائیں گے۔اسی طرح وہ گوشت خور جانور جن کا گزارہ ان چرندوں کے شکار پر تھا خوراک کی عدم فراہمی کی وجہ سے رفتہ رفتہ ختم ہو جائیں گے۔اس ماحول میں شاید وہی جانور زندہ رہ سکیں جنہیں پانی کی نہایت قلیل مقدار درکار ہوتی ہے۔مثال کے طور پر کیڑے مکوڑے، بچھو، کن کھورے نیز وہ جانور جو اپنی پانی کی روز مرہ ضرورت پوری کرنے کیلئے ان کیڑوں کو شوق سے کھاتے ہیں۔ان میں نیولہ کی قسم کے جانوروں یعنی Meerkats میں ایسے نامساعد حالات میں زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔اسی طرح کترنے والے جانوروں یعنی Rodents مثلاً چوہوں وغیرہ کی بعض اقسام بھی طویل خشک سالی کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔تمام فقار یہ جانوروں (Vertebrates) میں سے صرف زرافہ ایک ایسا جانور ہے جو ان نامساعد حالات میں زندہ رہنے کا تھوڑا بہت امکان رکھتا ہے۔یہ جانور اپنی غیر معمولی لمبی گردن اور اگلی لمبی ٹانگوں کی وجہ سے بآسانی لمبی جڑوں والے درختوں کی اونچی ٹہنیوں پر سرسبز چنوں سے خوراک حاصل کر سکتا ہے جبکہ باقی تمام چرنے والے جانور ان حالات میں خوراک کی کمی کی وجہ سے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس سلسلہ میں بعض دیگر عوامل کا ذکر بھی ضروری ہے۔بعض جانور پانی کی تلاش میں بڑی دور تک تیزی سے سفر کر سکتے ہیں جبکہ بعض اپنی سست رفتاری کی وجہ سے نقصان اٹھاتے ہیں۔بعض جانور بہت دور سے پانی کی موجودگی کو محسوس کر لیتے ہیں جبکہ بعض کے لئے ضروری ہے کہ پانی بالکل قریب ہو۔یہاں پر ان درندوں کا ذکر بھی ضروری ہے جو چرندوں کے گوشت پر گزارہ کرتے ہیں اور جہاں بھی جائیں درندے ان کا تعاقب کرتے ہیں تاہم انہیں بھی زندہ رہنے کیلئے پانی کی