الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 367
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 361 جیسی ہی تھی لیکن نظام انہضام نے اسے مکمل طور پر رد کر دیا حتی کہ ایک بھی مالیکیول ہضم نہیں ہوا۔چنانچہ اس سے یہ عجیب خیال پیدا ہوا کہ اگر تجارتی پیمانہ پر ایسی شکر تیار کی جائے جس کے تمام مالیکیولز صرف بائیں جانب گردش کرتے ہوں تو نہ صرف ذیا بیطیس کے مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ وہ ایسے خوش خوراک اور بسیار خوروں کیلئے بھی باعث تسکین ہوگی کہ وہ تھوڑی سی بھی چربی چڑھنے کے خوف سے آزاد ہو جائیں گے اور ڈھیروں شکر استعمال کر سکیں گے۔اس کی تیاری میں رکاوٹ اب صرف اس پر اٹھنے والے بھاری اخراجات ہیں اس قسم کی رتی بھر چینی بنانے کیلئے بھی خطیر رقم درکار ہے۔اس عیاشی کے متحمل شاید وہی بادشاہ ہو سکیں جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔دائیں یا بائیں کی اس یک طرفہ ترجیح کا کئی طرح سے اظہار ہوتا ہے۔اکثر انسان دائیں ہاتھ سے کام لیتے ہیں۔اسی طرح دل اور جگر سوائے بعض مستثنیات کے بالترتیب بائیں اور دائیں مضمون طرف ہیں Dillip K۔Kondepudi اور Roger A۔Hegstrom نے اپنے مشترکہ می 'The Handedness of Universe (مطبوعہ Scientific American جنوری 1990) میں کئی ایسی مثالیں پیش کی ہیں جن میں قدرت نے بغیر کسی ظاہری وجہ کے کبھی دائیں کو بائیں پر اور کبھی بائیں کو دائیں پر ترجیح دی ہے۔اس کے باوجود یہ جانتے ہوئے بھی کہ دنیا میں بہت سے لوگ دائیں ہاتھ سے کام لیتے ہیں وہ اس کی کوئی وجہ تلاش نہیں کر سکے کہ : کیا وجہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے کام لینے والوں اور بائیں ہاتھ سے کام لینے والوں کی تعداد برابر نہیں ؟2 لیکن سمت کے تعین کا اظہار صرف نسل انسانی سے ہی مخصوص نہیں ہے۔عالم حیوانات اور عالم نباتات میں سمت کے متعلق پائی جانے والی ترجیح کے حوالہ سے یہ دونوں مصنفین یوں رقمطراز ہیں: " Right handed یا Dextral یعنی دائیں رخ والے مونگے خطِ استوا کے دونوں جانب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔دائیں جانب رجحان کے حامل ان جانوروں میں بائیں جانب رجحان والے جاندار جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔جن کی شرح