الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 342
336 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار (Wavelength) ہوتی ہے تو اس سے ان کڑیوں کے ارد گرد ایک قسم کا ارتعاش اور گونج پیدا ہوتی ہے۔چونکہ Lamellae میں تمام Pigment سالمے باہم منسلک ہوتے ہیں اس لئے مرتعش توانائی ایک رنگدار سالمہ سے دوسرے رنگدار سالمہ میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے اور آخر کار کلوروفل ہی کے ذریعہ سے مختلف سالموں میں پہنچا دی جاتی ہے جہاں سے وہ ضائع نہیں ہوسکتی۔توانائی کو محفوظ کرنے والا یہ خاص قسم کا سالمہ، کلوروفل کے تین سو عام سالموں سے توانائی حاصل کر کے محفوظ رکھ سکتا ہے۔اس طرح روشنی سے حاصل کردہ توانائی اتنی بڑی مقدار میں ایک ہی جگہ پر مرتکز ہو جاتی ہے کہ دوسرے سالمہ کو یہ صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ کسی الیکٹران کو الیکٹران قبول کرنے والے کسی ایسے حصہ کو منتقل کر دے جو خود کلوروفل سے خالی ہو اور متعدد درمیانی واسطوں کے ذریعہ اس الیکٹران کو آگے NADP تک منتقل کر دے مگر قابل غور امر یہ ہے کہ سوائے کلوروفل والے حصہ کے جس کا کام پانی کے سالمہ کو تقسیم کر کے ابتدائی توانائی حاصل کرنا ہے ضیائی تالیف کے باقی تمام مراحل، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے انجماد کا عمل اور نشاستہ (Sugars) کی تالیف جس طریق سے ہوتی ہے اس کا علم ہمیں پہلے ہی حیواناتی خلیہ کے نامیاتی مطالعہ سے ہو چکا ہے۔" کلوروفل کے نہایت پیچیدہ اور بڑے سالمے میں ایٹموں کی ایک لمبی زنجیر ہوتی ہے جس میں ہر ا ئیم ایک مخصوص جگہ پر خاص ترتیب کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔اس ترتیب کی کسی کڑی میں معمولی سی تبدیلی بھی کلوروفل کی اہمیت اور کردار کو کلیہ ضائع کر دیتی ہے۔ہرقسم کی زندگی کا انحصار توانائی کے اس بنیادی ماخذ پر ہے مگر اس عمل کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے نشاستہ کو جاندار ایسی حالت میں استعمال نہیں کر سکتے۔یکے بعد دیگرے ہونے والے تمام کیمیاوی مراحل کا دارو مدار ATP اور ADP پر ہوتا ہے جن میں دو یا تین فاسفیٹ گروپ لازمآ پائے جاتے ہیں۔ان دونوں میں فاسفورس گروپ مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔یہی وہ اہم جزو ہے جو پودوں اور جانوروں کے ہر زندہ خلیہ میں موجود ہوتا ہے اور جاندار اشیاء کو در کار بے شمار نامیاتی مرکبات کو تیار کرنے والے کارخانہ کو چلاتا ہے۔مذکورہ بالا بحث میں ہم نے دراصل تخلیق کے ان تین پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے جو