الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 333
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 327 ضیائی تالیف کافی نہیں تھی۔سورج سے حاصل شدہ توانائی کو کیٹا بولزم یا عمل تحول کے ذریعہ محفوظ اور قابل استعمال بنایا جانا بھی ضروری تھا جس کیلئے آزاد آکسیجن درکار تھی۔لیکن ان کے نظریہ کے مطابق اس زمانہ میں یا تو یہ میسر ہی نہیں تھی یا اس کا حصول انتہائی دشوار تھا۔اس دور میں طوفان کثرت سے آتے تھے اور فضائی نظام اکثر درہم برہم رہتا تھا۔اس لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ زندگی نے پیدا ہوتے ہی اپنے لئے آکسیجن خود ہی بنانا شروع کر دی ہو اور کیٹا بولزم یا تحول کا عمل جاری رکھنے کیلئے اس آکسیجن کو ماحول سے واپس لے کر اپنے نظام میں جذب کر لیا ہو۔حیرت کا مقام ہے کہ ہمارے قدیم اجداد نے زندگی کا سفر شروع کیا بھی ہوگا تو کیسے؟ کیونکہ زندہ رہنے کیلئے انہیں جس آکسیجن کی ضرورت تھی وہ تو انہوں نے ضیائی تالیف کی مدد سے از خود تیار کرنا تھی۔یہ خیال واقعی انوکھا ہے کہ پیدائش کے وقت وہ آکسیجن کے بغیر اس وقت تک زندہ رہے۔گویا انہوں نے اپنی سانس روکے رکھی یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضرورت یعنی آکسیجن بنانے اور اسے فضا سے دوبارہ حاصل کرنے کے قابل ہو گئے۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ خوش قسمتی سے ان کی زندگی کا آغاز کسی روشن صبح کو ہوا ہو گا۔کیونکہ صرف ای صورت میں ضیائی تالیف اپنا وہ عمل شروع کر سکتی تھی جس کے نتیجہ میں آکسیجن کا بنا ممکن تھا۔لیکن محض اتنا ہی کافی نہ تھا بلکہ یہ بھی ضروری تھا کہ یہ آکسیجن حیاتیاتی اجزاء کے اس قدر قریب رہتی کہ اسے فوری طور پر استعمال کیا جا سکتا۔طوفانی اور شوریدہ ماحول میں ممکن نہ تھا کہ پیدا ہوتے ہی یہ تھوڑی سی آکسیجن ان کے آس پاس موجود بھی رہتی جسے بوقت ضرورت واپس عمل تنفس کے ذریعہ استعمال کیا جاسکتا۔ہر ایٹم عمل تالیف کے ذریعہ جس تیزی سے پیدا ہو رہا تھا اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ طوفانی ہوائیں اسے اڑالے جاتی ہوں گی۔کیا کوئی حیات کے ان خلیات کی بے کسی کا تصور کر سکتا ہے کہ سانس لینے سے قبل ہی وہ آکسیجن کو اپنی دسترس سے باہر جاتا ہوا دیکھتے ہوں گے؟ لیکن اسی پر بس نہیں۔آخرون بھی اپنی دھوپ، روشنی اور سکون کے ساتھ رات میں بدل جاتا ہوگا۔زمانه قبل از تاریخ کے شب وروز کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اب ہم عہد نامہ قدیم کی