الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 329

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 323 کے سالمے ہوتے ہیں جو انہیں علیحدہ علیحدہ رکھتے ہیں اور ان کا باہمی فاصلہ صرف 0۔71 نینو میٹر ہوتا ہے (ایک نینومیٹر ایک سنٹی میٹر کے کروڑویں حصہ کے برابر ہوتا ہے) جس سے اس کی سطح کا رقبہ بڑھ جانے کی وجہ سے سالموں کے اس پر زیادہ تعداد میں چپکنے کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔پس خشک مٹی کا ایک مکعب جس کی سمت اگر ایک سنٹی میٹر ہو تو اس کی سطح کا کل رقبہ تقریبا 2800 مربع میٹر ہو گا جو کہ ایک ایکڑ کے تین چوتھائی کے برابر ہے۔آغاز حیات کیلئے درکار مادہ کی تخلیق کے شواہد معلوم کرنے کیلئے سائنسدان جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں اس کا مختصر ذکر تو گزر چکا ہے۔اس سلسلہ میں بعد ازاں جو کام ہوا اس کا ذکر کائن (Coyne) کی گہری تحقیق کے حوالہ سے ذیل میں کیا جاتا ہے۔کائن (Coyne) جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے وابستہ تھے، کیمیاوی ارتقا کے ابتدائی مراحل میں چکنی مٹی کی ایک قسم Kaolinite کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چکنی مٹی کی یہ اقسام تابکاری کے ذریعہ ماحول سے توانائی حاصل کر کے اس کا ذخیرہ کرتی ہیں اور بار بار گیلا یا خشک ہونے کے عمل سے یہ ذخیرہ شدہ توانائی ماحول میں واپس لوٹا دیتی ہیں۔4 تحقیق اور تدقیق کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔دراصل سائنسدانوں کی تمام تحقیق اور حیات کے آغاز کی عقدہ کشائی کے سلسلہ میں تمام کاوشیں اس قدیمی شور بہ سے آگے نہیں بڑھ سکیں جس کی تہ تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔اس راز سے ہنوز پردہ نہیں اٹھ سکا کہ تخلیق کے عمل کی دھندلی صبح کے وقت سمندروں کے قدیمی شوربہ میں کیا کچھ ہوا اور کیسے ہوا؟ اس سلسلہ میں تحقیق کی ابھی شروعات ہی ہوئی ہیں۔حیاتیاتی ارتقا کے ابتدائی مراحل میں کھٹکنے والی چکنی مٹی کے حیرت انگیز کردار کا جائزہ لینے کے بعد اب ہم قرآن کریم کے چودہ سو سال پہلے کے خیرہ کر دینے والے دعویٰ پر غور کرتے ہیں۔یہ خیال کہ آدم کی تخلیق کھنکنے والی چکنی مٹی سے ہوئی نہ صرف انوکھا اور منفرد ہے بلکہ تخلیق آدم کے اس وقت کے ہم عصر اور معروف نظریہ کے بھی بالکل برعکس ہے۔مروجہ کہانیوں سے متاثر ہو کر ایک سیدھا سادہ ذہن سوچ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی اور مٹی کو ملا کر اس قدر خشک کیا ہو گا کہ وہ کسی بھی شکل میں ڈھل جانے کے قابل ہو گئی۔جس کے بعد اس کو محض انسانی شکل میں ڈھالے جانے