الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 312
306 زندگی کے آغاز لاج متعلق مختلف نظريات زندگی کے آغاز سے متعلق ان کی ابتدائی تحقیقات کے نتیجہ میں سائنسدانوں میں اس موضوع پر تحقیق کا شوق مزید بڑھ گیا تاہم یوری ( Urey) کے ایک شاگر د سٹینلے ایل۔ملر۔Stanley L) (Miller نے 1953ء میں عملی تحقیق کے میدان میں خوب نام کمایا۔اس نے یوری کے نظریہ میں پیش کردہ حالات کے مطابق اپنی تجربہ گاہ میں ایک برتن میں چند لٹر امونیا۔میتھین اور ہائیڈ روجن گیسوں کو اکٹھا کر کے وہ ماحول پیدا کیا جو سائنسدانوں کے خیال میں زمین کی ابتداء میں موجود تھا۔اس آمیزہ میں اس نے کچھ پانی ملایا اور ایک گرم تار کی مدد سے اسے ابالا پھر اس آمیزہ میں سے بجلی گزاری۔چند دنوں میں ہی ایک سرخ رنگ کا مرکب تیار ہو گیا۔اس کا تجزیہ کیا گیا تو اس میں بہت سے امینوایسڈ موجود تھے۔چنانچہ اس تجربہ سے ملر کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔پروٹین جو زندگی کے بنیادی اجزائے ترکیبی میں سے ہیں امینوایسڈ کے آپس میں ملنے سے بنتے ہیں۔اس تجربہ کے عظیم الشان نتائج سے اس وقت کے سائنسدان یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ سمندر کے پانی اور دیگر قدرتی عناصر کے باہم ملنے سے Primordial Soup تیار ہوسکتا ہے۔- چنانچہ سائنس افسانوی رنگ اختیار کر گئی اور بعض سائنسدان بڑے بڑے خواب دیکھنے لگے کہ جلد ہی ٹیسٹ ٹیوب میں زندگی پیدا کر لی جائے گی۔کئی سال گزرنے کے بعد خود مرکو بھی یہ احساس ہوا کہ ایسی امیدیں قبل از وقت تھیں۔چنانچہ وہ مایوس ہو کر یہ اعتراف کرتا ہے کہ: زندگی کی ابتداء کا مسئلہ میرے اور میرے ہمعصر سائنسدانوں کے اندازہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ نکلا 5 طر کا یہ عہد ساز تجربہ 1953ء میں جبکہ وہ شکاگو یونیورسٹی میں ابھی تئیس سالہ طالبعلم تھا کیا گیا۔اتفاق سے انہی دنوں اسی تحقیق سے متعلق واٹسن (Watson ) اور کرک (Crick ) نے ایک اور بہت کامیاب تجربہ کیا۔انہوں نے پہلی بار DNA اور RNA کی ساخت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ DNA اور RNA مل کر زندگی کی بنیاد بنتے ہیں۔اس خیال نے سائنسدانوں کے سامنے ایک اور چیلنج رکھ دیا یعنی یہ کہ نامیاتی مادہ کیونکر محض اتفاق سے اتنی پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔سائنسدانوں کو کئی مسائل کا سامنا تھا۔طرح طرح کے سوالات سراٹھانے لگے ان میں