الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 292

قرآن کریم اور غیر ارضی حیات کائنات کے بارہ میں قرآن کریم کا پیش کردہ تصور گزشتہ فلاسفروں اور دانشوروں کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔نزول قرآن کے وقت یونانی علم فلکیات کا دنیا بھر میں دور دورہ تھا اور تمام تہذیبیں اس سے متاثر تھیں۔یہ صورت حال کو پر نیکس (Copernicus) کے زمانہ تک مسلسل جاری رہی۔سب کا یہی خیال تھا کہ آسمان کسی پلاسٹک نما شفاف مادہ کی تہوں سے بنا ہوا ہے جس میں چمکدار اجسام جڑے ہوئے ہیں۔ان کا مبلغ علم لے دے کر درج ذیل نکات تک محدود تھا: 1 زمین مٹی، چٹانوں ، پانی ، ہوا اور دھاتوں پر مشتمل ہموار سطح والا ایک ایسا سا کن مادہ تھا جو نہ تو اپنے محور کے گرد اور نہ ہی کسی ستارہ کے گرد گھوم رہا تھا۔2۔کائنات میں زمین کی حیثیت بالکل منفرد تھی جس کی کوئی اور مثال موجود نہیں تھی۔زمین کو اپنی جگہ پر گڑا ہوا خیال کیا جاتا تھا جس کے گر دستارے چکر لگا رہے تھے۔ظاہر ہے کہ کائنات کے متعلق اس تصور کی موجودگی میں زمین کے علاوہ کہیں اور زندگی کا امکان نہیں تھا۔ان کے ذہنوں میں زمین کے علاوہ کسی اور مسکن کا تصور بھی نہیں آ سکتا تھا کیونکہ زمین ان کے نزدیک کائنات کے کہیں وسط میں واقع تھی۔اس کے برعکس قرآن کریم نہ تو زمین کی کوئی منفرد حیثیت تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ساکن قرار دیتا ہے۔زمینوں کی تعداد کے بارہ میں قرآن کریم کا بیان ہے: الله الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَلوتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ (الطلاق 13:65) ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور زمینوں میں سے بھی ان کی طرح ہی۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس آیت اور دیگر بہت سی آیات میں سات کا ہندسہ ایک معین قرآنی اصطلاح ہے۔چنانچہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات بہت سی اکائیوں پر مشتمل ہے اور 285