الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 274
الهام ، عقل ، علم اور سچائی ترجمہ: اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دیئے تاکہ تمہارے لئے کھانے کا سامان مہیا کریں اور 267 در یا اور راستے بھی تا کہ تم ہدایت پاؤ۔چنانچہ قرآن کریم ایسے عمدہ انداز میں ان حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے کہ اس زمانہ کے مروجہ علوم سے کھلم کھلا ٹکراؤ بھی نظر نہیں آتا۔ممکن ہے کہ بعض لوگ سورۃ نمل کی آیت 89 کو قیامت پر چسپاں کریں لیکن جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے یہ غلط استدلال مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر قبول نہیں کیا جاسکتا: 1۔اس آیت میں حال کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔نہ کہ مستقبل کا۔یہاں استعمال ہونے والا حرف و اور کے علاوہ جبکہ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ تم پہاڑوں کو ساکن خیال کرتے ہو جبکہ وہ مسلسل حرکت میں ہیں، اس لئے آیت کے اس حصہ کو صرف مستقبل پر چسپاں کرنا درست نہیں۔2۔اگر مستقبل میں کبھی پہاڑوں کی پرواز مراد ہوتی اور انسان کسی دوسرے سیارہ سے ان کا نظارہ کرتا تو انہیں ساکن خیال نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اس کو نظروں کے سامنے اڑتے نظر آتے۔اس لئے اس قسم کے ترجمہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح اس آیت کا یہ ترجمہ بھی غلط ہو گا کہ اگر چہ آج کا انسان ان پہاڑوں کو ساکن خیال کرتا ہے لیکن آئندہ کبھی وہ پرواز کرنے لگیں گے۔اگر آج پہاڑ ساکن ہیں تو انسان ہمیشہ انہیں ساکن ہی دیکھے گا۔یہاں یہ سوال نہیں کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق انہیں ساکن خیال کرتا ہے اس صورت میں تو قرآن کریم کو یوں ذکر کرنا چاہئے تھا ” تم انہیں ساکن سمجھتے ہو جیسا کہ وہ ہیں لیکن مستقبل میں وہ ساکن نہیں رہیں گئے حالانکہ قرآن کریم ہرگز یہ بیان نہیں کر رہا۔3۔اس آیت کے آخر پر خدا تعالی کی تخلیق کی پائیداری کی تعریف کی گئی ہے۔یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ پہاڑ متحرک ہونے کے باوجود مضبوطی سے گڑے ہوئے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابتدائی تفاسیر اس آیت کے حقیقی معانی کے متعلق خاموش ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفسرین کے لئے اس کی تشریح بہت مشکل تھی۔