الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 253

248 ایمان بالغیب کیا آج کی سائنسی تحقیق قرآن کریم کے مقابل پر اپنی ساکھ نیں کھو بیٹھتی ؟ کیا کوئی شخص ان قوانین کی حتمیت پر مکمل انحصار کر سکتا ہے؟ کیا یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ کل کی سائنسی تحقیق آج کے مسلمہ سائنسی اصولوں کو محل نظر نہیں ٹھہرائے گی؟ اس طرح کے سوالات کا پیدا ہونا کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ ماضی کے سب کے سب تصورات یکسر تبدیل ہو جائیں۔حقائق الاشیاء کے بارہ میں بیشمار نظریات ایسے ہیں جن سے متعلق انسانی سوچ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتے بدلتے بالآخر ایک مقام پر آکر شہر جاتی ہے۔فطرت کے متعدد قوانین ایک بار کلیہ کے طور پر تسلیم کئے جانے کے بعد پھر کبھی اعتراض کا نشانہ نہیں بنے۔معمولی ترامیم تو ہوتی رہیں لیکن عمومی طور پر ان کی تفہیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی یہاں تک کہ اب ان کی صحت ثابت کرنے کیلئے مزید کسی پیچیدہ فلسفیانہ یا سائنسی بحث و تمحیص کی ضرورت نہیں رہی۔بے شک وقت کے ساتھ ساتھ پانی، آگ، ہوا اور مٹی کے بعض خواص بہتر طور پر سمجھ میں آتے رہے ہیں لیکن ان کے بنیادی خواص میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔آگ اب بھی پہلے کی طرح جلاتی اور پانی اب بھی اسے بجھاتا ہے۔یہ ایسے حقائق ہیں جو ہر زمانہ میں مسلم رہے ہیں۔کوئی صاحب فراست کبھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ ایک دن پانی آگ کے شعلوں کو بھڑ کانے کا سبب بنے گا لیکن الہامی پیشگوئیاں انسانی علم کے مقابل پر فی الواقعہ بہت مختلف ہوتی ہیں۔مثلا ماضی میں سوائے نبی کے کوئی بھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن آئے گا جب پانی میں آگ لگے گی۔اس کو کہتے ہیں پیشگوئی۔لیکن سوڈیم کے خواص دریافت ہونے کے بعد تو کسی کو اس پیشگوئی کو ر ڈ کرنے کی جرات نہ ہوسکی۔سوڈیم کے ان خواص کی دریافت کے بعد اب یہ خواص بھی فطرت کے غیر مبدل قوانین کے زمرہ میں شامل ہو گئے ہیں۔اب کوئی یہ شبہ نہیں کر سکتا کہ شاید آئندہ کسی وقت پانی کے اندر سوڈیم کو آگ نہ پکڑ سکے۔اگر انسان اپنے ماحول کا بغور جائزہ لے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا کہ اس کے علم کا کتنا حصہ غیر مبذل حقائق کے طور پر قبول کیا جا چکا ہے۔یہی اصول انسانی حواس پر صادق آتا ہے۔اگر حواس کا دائرہ وسیع ہو بھی جائے تب بھی شیریں اور تلخ ، لذیذ اور بدمزہ ، سرد اور گرم ، شور اور خاموشی ،سکون اور بے سکونی ، اذیت اور لذت