الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 252

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 247 ہو جو کائنات کی ان وسعتوں اور رازوں کا اتنی وضاحت سے ذکر کرے جن کی اہمیت اور معانی اب کہیں جا کر کھلنے لگے ہیں۔یہ کس قدر نا قابل یقین بات ہے کہ کوئی شخص ان امور کا ذکر کرے جو اس وقت کے دنیا بھر کے بڑے سے بڑے اہل علم کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوں یہاں تک کہ بیسویں صدی کی سائنسی تحقیق بالآخر اس امی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو سچا ٹھہرائے۔آپ ﷺ کا یہ دعوی کتنا سچا ہے کہ آپ ﷺ کو جو علم بھی حاصل ہوا وہ آپ ﷺ کی اپنی کوشش سے نہیں بلکہ ایک اعلیٰ علیم، ازلی ابدی اور حکمت کاملہ کے سرچشمہ سے حاصل ہوا۔الله اسی سے متاثر ہو کر مشہور فرانسیسی مصنف ڈاکٹر موریس بوکالے Dr۔Maurice) Bucaille اپنی کتاب The Bible, the Quran and Science میں تعجب کا اظہار کرتا ہے۔اس نے بائیل اور قرآن سے علمی مواد اکٹھا کر کے غیر جانبداری کے ساتھ سائنسی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا۔اسے یہ توقع نہ تھی کہ تحقیق کے ہر مرحلہ پر قرآن کریم کا ہر بیان ہی سچا ثابت ہوگا۔اس کی پہلی تحقیقی رپورٹ 1976ء میں فرانسیسی زبان میں شائع ہوئی لیکن قرآن کریم کا کوئی ایک بیان بھی اسے بیسویں صدی کی سائنسی معلومات سے متناقض دکھائی نہ دیا۔اس جگہ ٹورانٹو یونیورسٹی کے شعبہ طب کے سر براہ اور معروف کینیڈین ماہر علم الاعضاء کیتھ ایل مور (Keith L۔Moore) کا ذکر بھی مناسب ہوگا جنہوں نے قرآن اور Embryology کے موضوع پر تفصیلی تحقیق کی ہے۔23 قرآن کریم کے ساتھ ساتھ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور اپنی اس تحقیق کے نتائج کی بنا پر وہ وحی قرآن کی جرات کے ساتھ کھل کر تصدیق کرتے ہیں۔یہاں اس امر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ ہم کس حد تک مقدس کتب اور سائنسی علوم کے موازنہ سے حاصل شدہ نتائج پر اعتماد کر سکتے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی فکری صلاحیتوں کو جلا ملتی رہتی ہے اور یوں اس کی آگہی کا افق وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ انسان کا ادراک مستقلاً بدلتا رہتا ہے۔پھر کیونکر کسی بھی دور کے سائنسی نظریات پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔مثلاً قوانین فطرت کے بارہ میں بھی جنہیں متفقہ طور پر آفاقی اور اٹل سمجھا جاتا ہے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر دور کے فلسفی اور سائنسدان انہیں ایسا ہی خیال کرتے رہے ہیں۔چنانچہ اس پس منظر میں