الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 251
246 ايمان بالغيب جس کا فی الحال ہمیں کوئی اندازہ نہیں۔قرآن کریم کا یہ حیرت انگیز انکشاف اس طرف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ ایک دن انسان اس آیت میں مذکور مخفی حقائق سے بھی فائدہ اٹھا سکے گا۔کرہ ارض کا محیط فقط پچیس ہزار میل ہے۔لیکن قرآن کریم جس کا ئنات کا ذکر کر رہا ہے اس کا ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا فاصلہ 18 سے 20 ارب نوری سال ہے اور اس میں حیرت انگیز رفتار کے ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک خلانورد آج سے کائنات کے ایک سرے سے اپنے سفر کا آغاز روشنی کی رفتار یعنی 186,000 میل فی سیکنڈ سے کرے تو وہ آج سے انداز 18 سے 20 ارب سال کے بعد کائنات کے دوسرے سرے تک اس صورت میں پہنچ سکے گا کہ کائنات جوں کی توں رہے، جو واقعہ نہیں ہے۔اس موقع پر قرآن کریم کے اس اعلان پر غور کرنا چاہئے کہ کائنات کی اس عظیم وسعت میں ذرہ برابر بھی خلا نہیں۔ایک انچی تو کیا، ایک ملی میٹر یا نینو میٹر کے برابر بھی خلا نہیں۔زیر نظر آیت کا ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے کہ خدائے علیم بغیر کسی تحقیقی وسیلہ کے امور غیب ظاہر فرما سکتا ہے۔سائنسی تحقیق کے ذریعہ دریافت ہونے والے فطرت کے رازوں کا مقدس کتابوں میں ذکر اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ کائنات کا ایک علیم اور بزرگ و برتر خالق موجود ہے۔اور وہی ہے جسے حاضر اور غائب دونوں دنیاؤں کا کامل علم حاصل ہے۔(عالم الغيب والشهادة) - وجی کی مدد سے حاصل ہونے والا علم تحقیق کے ذریعہ حاصل شدہ علم سے بہت مختلف ہوتا ہے۔آسمانی صحائف سائنس کی نصابی کتب نہیں ہوتے۔لہذا ان میں کسی سائنسی مضمون کا بیان اتفاقاً نہیں ہوتا۔ان کا اصل مقصد ایک مشترک منبع کی طرف رہنمائی کر کے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ مادی اور روحانی کائنات ایک ہی خالق کی تخلیق ہیں۔یادر ہے کہ بانی اسلام نے جن پر قرآن کریم نازل ہوا خود اتمی تھے اور امی معاشرہ میں پیدا ہوئے تھے۔آپ ﷺ کی پیدائش اور پرورش ایک الله ایسے خطہ میں ہوئی جس کی مشرقی سرحد پر کسری اور مغربی سرحد پر روم کی سلطنت واقع تھی۔صحرائے عرب جس میں ہر طرف تاریکی اور جہالت کا دور دورہ تھا ان دو عظیم سلطنتوں کے درمیان واقع تھا۔کیا یہ امر غیر معمولی نہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں اس خطہ میں ایک ایسا ـص: پیدا