الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 250
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 245 استعدادیں انسان کو عطا ہوئی ہیں اور انہیں اپنے فائدہ کیلئے استعمال کرنے کی جو تو فیق اسے حاصل ہے، وہ دراصل خدا کے فضل ہی سے ہے تا کہ وہ علم حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔خالق گل نے ہی کائنات کے ظاہری اور مخفی خواص کو انسان کیلئے مسخر کیا ہے اور خدا تعالیٰ کو انسان کی تخلیق سے بھی پہلے اس کی آئندہ روحانی، مادی ، علمی، اقتصادی اور تمدنی ترقی کیلئے درکار ضروریات کا علم تھا: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا في السلوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنَهُ فِى ان في ذلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ( الجاثية 14:45) ترجمہ: اور جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے اس میں سے سب اس نے تمہارے لئے مسخر کر دیا۔اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے یقیناً کھلے کھلے نشانات ہیں۔بے حد و نہایت تحقیق کی اتنی حیرت انگیز حوصلہ افزائی کا اس سے بہتر اظہار تصور میں بھی نہیں آ سکتا۔اس میں یہی پیغام مضمر ہے کہ جو کچھ انسان دریافت کرے گا وہ اسی کی خدمت کیلئے ہو گا۔بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔مندرجہ ذیل آیت صرف نظر آنے والے زمین اور آسمان کی بات ہی نہیں کرتی بلکہ اس چیز کا ذکر بھی کرتی ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے والی ہے اور اسے بھی انسان کیلئے مفید قرار دیتی ہے۔قرآن کریم نے یہ حیرت انگیز انکشاف چودہ سو سال قبل ہی کر دیا تھا۔اس میں واضح پیغام یہ ہے کہ ستاروں کے درمیان بظاہر نظر آنے والا خلا فی الحقیقت خلا نہیں بلکہ مادہ کی ایک ایسی قسم سے پُر ہے جس کا انسان کو علم نہیں: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا الَّا بِالحَقِّ ، ( الحجر 15:86) ط ترجمہ: اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔زمین اور آسمان کے درمیان کیا چیز موجود ہے اور وہ کس طرح انسان کے کام آسکتی ہے؟ ان سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا۔یہاں قرآن کریم ایسی وسعتوں کا ذکر کر رہا ہے جو انسانی تصور کی پہنچ سے باہر ہیں۔ممکن ہے یہاں تاریک مادہ کی طرف اشارہ ہو یا کوئی ایسی شے مراد ہو