الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 226
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 221 ایک حصہ عالم شہود میں منتقل ہو جاتا ہے۔تا ہم یہاں یہ امر پیش نظر رہنا چاہئے کہ زیر بحث نفسیاتی نظام صرف الہام الہی کے ذریعہ ہی استعمال نہیں ہوتا، اور نہ اس پر تحت الشعور کی اجارہ داری ہے۔بلکہ قرآن کریم ایک تیسرے امکان کا بھی ذکر کرتا ہے۔هَلْ أَنَيْتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّادٍ أَثِيُون تلْقُونَ السَّمْعَ وَاكْثَرُهُمْ كَذِبُونَ (الشعراء 222:26-224) ترجمہ: کیا میں تمہیں اس کی خبر دوں جس پر شیاطین بکثرت اترتے ہیں؟ وہ ہر پکے جھوٹے ( اور ) سخت گنہ گار پر بکثرت اترتے ہیں۔وہ (ان کی باتوں پر کان دھرتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔ان آیات کی رو سے جھوٹے اور جھوٹ کے عادی لوگ بھی اپنی شیطانی فطرت کے باعث اس نظام کو متحرک کر سکتے ہیں۔اس طرح ان کا جھوٹ وحی کا روپ دھار کر انہیں اور ان کے چیلوں کو گمراہ کر دیتا ہے۔یہ اس نفسیاتی نظام کے استعمال کی تیسری قسم ہے۔اس سلسلہ میں فیصلہ کن کردار ہمیشہ صاحب تجربہ کا اپنا صدق یا کذب ادا کرتا ہے۔جھوٹے لوگوں کے الہامات بھی جھوٹے ہوتے ہیں۔پس آجا کر بات یہاں ختم ہوتی ہے کہ جھوٹوں کے الہامات کی ہمیشہ یہی پہچان ہوتی ہے کہ ان کے نام نہاد الہامات میں ہمیشہ شیطانی عصر موجود ہوتا ہے اور اس طرح ان کے ذریعہ جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں۔