الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xxiv
xxiv پیش لفظ ڈارون کے نظریہ کو از سر نو پیش کیا ہے اور اس کے اس نظریہ کی بے جا حمایت کی ہے جس کے مطابق وہ انتخاب طبعی کے اندھے اصول کے سوا ہر دوسرے خالق کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔بد قسمتی سے اس کتاب کی طرف میری توجہ اس وقت مبذول ہوئی جب میں اپنی کتاب کی نوک پلک سنوارنے کا کام تقریباً ختم کر چکا تھا لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔بہر حال ان معلومات کے بعد میں مجبور ہو گیا کہ اپنی کتاب کی اشاعت اس وقت تک کے لئے مؤخر کر دوں جب تک اس کتاب کے منظر عمیق مطالعہ کے بعد اس میں دیئے گئے دلائل کا تجزیہ نہ کرلوں۔اس کام کی تکمیل کے بعد اب میں نے اس کتاب میں پروفیسر ڈاکنز کے بغیر خالق کے تخلیق کے نظریہ پر ایک مکمل نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ظاہر ہے کہ ہر تخلیق ایک خالق کی محتاج ہے۔کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ مونالیزا (Mona Lisa) کو تسلیم کریں اور لیونارڈو ڈاونچی (Leonardo da Vinci) کا انکار کر دیں۔پروفیسر ڈاکنز نے ایسی ہی فاش غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔وہ مخلوق کو تسلیم کرتے ہوئے خالق کے وجود سے انکار کرتے ہیں اور نہایت بھونڈے انداز میں اس کی جگہ ڈارون کے انتخاب طبعی کے اصول کو متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ممتاز ماہر حیاتیات کی حیثیت سے ان سے ایسی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ڈارون کے اصول تخلیقی اصول نہیں ہیں۔یہ ساری بحث اس کتاب کے ایک باب The Blind Watchmaker who is also" "Deaf and Dumb یعنی ” اندھا، گونگا اور بہرہ خالق میں اٹھائی گئی ہے۔تاہم یہاں اتنا کہنا کافی ہوگا کہ پروفیسر ڈاکنز اگر اس کتاب کا عنوان " Mr Bat, the Watchmaker par Excellence" رکھ دیتے تو بہت مناسب ہوتا۔ظاہر ہے کہ پروفیسر ڈاکنز کی کتاب کا اندھا گھڑی ساز کوئی انسان نہیں بلکہ صرف ایک تصور ہے۔اور محض تصورات کچھ بھی تخلیق نہیں کر سکتے خصوصاً ان سے گھڑی تو بالکل نہیں بنائی جاسکتی۔پروفیسر ڈاکنز کے بیان کے مطابق چمگادڑیں گھڑی بنانے کی زیادہ اہل ہیں اور اس مقصد کے لئے ضروری آلات سے بھی پوری طرح لیس ہیں۔ان کے پاس دماغ ہے اور وہ آوازوں کو اس طرح سن سکتی ہیں کہ کوئی اور جانور اس طرح نہیں سن سکتا۔وہ عملاً مکمل تاریکی میں بھی دیکھ سکتی ہیں۔وہ آواز کی لہروں کے نہایت معمولی ارتعاش میں فرق محسوس کر سکتی ہیں جو انسان کے خود ساختہ انتہائی پیچیدہ اور جدید نظام بھی نہیں کر سکتے۔