الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 209
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 203 عدن کے سے سدا بہار باغات، پھلوں اور سبزیوں کی افراط ، قحط کے خوف سے نجات وغیرہ یہ سب علامات ان تمثیلات سے ملتی جلتی ہیں جو قرآن کریم میں جنت کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خدا تعالیٰ کی اولاد کے علاوہ کسی اور جاندار مخلوق کا ذکر تک نہیں۔دنیا کے دیگر بڑے مذاہب میں بھی جنت کے تصور میں جانوروں کا ذکر نہیں ملتا۔اہالیان جنت صرف وہ نیک لوگ تصور کئے جاتے ہیں جنہیں تمثیلی طور پر خدا کی اولاد" بھی کہا گیا ہے۔اگر یہ محض آسٹریلیا کے سادہ لوح باشندوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں ہوتیں تو یہ امکان بہت کم تھا کہ یہ خیالی جنت جانوروں کے ذکر سے اس طرح بالکل خالی ہوتی۔دنیا کے باقی حصوں میں پائی جانے والی دیو مالائی کہانیوں میں عموماً جانوروں کا کچھ نہ کچھ ذکر ضرور ملتا ہے۔لیکن تمام بڑے بڑے مذاہب میں جنت کا تصور جانوروں کے ذکر سے یکسر خالی ہے۔تہذیب اور مذہبی خیالات کے ارتقا کی محض ایک ہی وجہ نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ ایک ایسا ملا جلا عمل ہوتا ہے جس میں نظریات ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اس طرح منتقل ہوتے رہتے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا یا اس انتقال کی سمت کا تعین کرنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ویسے کسی بھی سوچ کے ارتقا کا آغاز سے انجام تک سراغ لگانا اتنا آسان نہیں ہوا کرتا۔یہ بحث کہ کس نے کس پر اثر ڈالا ، ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔مثلاً یہ کہ کیا بدھ مت نے عیسائی نظریات کو جنم دیا یا عیسائیت بدھ مت پر اثر انداز ہوئی؟ ایک ایسا سوال ہے جو اب تک حل نہیں ہو سکا۔مگر آسٹریلیا میں ہمیں بالکل مختلف اور منفر د صورت حال نظر آتی ہے۔اگر قدیم آسٹریلوی مذہبی شواہد ان ماہرین عمرانیات کے نظریات کی تائید کرتے تو نہ جانے ان کا رد عمل کیا ہوتا؟ کیا وہ ایک طوفان نہ اٹھا دیتے اور جوش اور فخر سے ” میں نے پالیا، میں نے پالیا“ کے نعرے نہ بلند کرنے لگتے۔مگر جب وہ وہاں کی مذہبی تاریخ کے ٹھوس حقائق پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی حالت قابل رحم ہوتی ہے اور وہ ایک منطقی نتیجہ سے جان چھڑانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگتے ہیں۔م خصوصیت سے صرف ان نیچریوں کی بات کر رہے ہیں جو ایک خالق خدا کو نہیں مانتے ان پر یہ حقائق بے حد شاق گزرتے ہیں۔کیونکہ انہیں کامل یقین تھا کہ آسٹریلیا کی قدیم تاریخ ان کے خیالات کی تائید کرے گی اور ان کے اس نظریہ کی تصدیق ہو جائے گی کہ خدا کا تصور ہزاروں