الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 210
204 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور۔سال کے ارتقا کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔لیکن جو حقائق سامنے آئے وہ بالکل برعکس تھے جس کی وجہ سے یہ لوگ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر وہ صرف صداقت کے متلاشی ہیں تو آخر اس جھنجھلاہٹ کی وجہ کیا ہے؟ اگر صداقت ان کے نظریات کے برعکس ہے تو اس میں مایوسی کی کیا بات ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرنے والی ہر دلیل کو رد کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔چنانچہ وہ ہر اس دریافت کو جو ان کے مزعومہ تصور کے برعکس ہو یا تو رد کر دیں گے یا پھر اس کی غلط تاویلیں کرنا شروع کر دیں گے۔سیکولر ازم ان کے نزدیک دراصل خدا تعالیٰ کا انکار ہے۔اپنے سیکولر نظریات کا بھرم رکھنے کیلئے وہ جو عذر بھی پیش کرتے ہیں اس سے ان کی غیر سائنسی سوچ کی قلعی کھل جاتی ہے۔یہ خیال درست نہیں ہے کہ تعصب صرف مذہبی علماء ہی کا خاصہ ہے بلکہ غیر مذہبی مفکرین اور فلاسفر بھی اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اس زہر کو غٹاغٹ پی جاتے ہیں اور ان کی منطق عقل اور انصاف پسندی ، غرضیکہ سب کچھ زہر کے اس ایک گھونٹ کی نذر ہو جاتا ہے۔بے شک وہ خود کو سیکولر مفکر ظاہر کریں لیکن اس زہر کے زیر اثر ان کا طرز عمل مذہبی جنونیوں جیسا ہی ہوا کرتا ہے۔اپنے نظریہ کے حق میں وہ جو دلائل بھی پیش کریں، ان کا یہ مردہ نظر یہ تو اب زندہ ہونے سے رہا۔ان کا یہ بلند بانگ دعویٰ کہ خدا پر ایمان انسانی تصورات کے ارتقا کا نتیجہ ہے براعظم آسٹریلیا سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکا ہے۔نتیجہ وہ بوکھلا گئے ہیں اور اب ان کیلئے کوئی جائے قرار باقی نہیں رہی۔ان کا دوبارہ اتحاد نہ تو کسی بادشاہ کے بس کی بات ہے اور نہ کسی مسخرے کے۔ان کی حالت دیکھ کر تو مشہور شاعر ملٹن کی نظم "فردوس گم گشتہ کی یاد آ جاتی ہے۔البتہ ایک فرق کے ساتھ کہ کوئی منطق یا دلیل ان کے اس مسمار شدہ محل کو از سر نو تعمیر نہیں کر سکتی۔ملٹن تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کا ڈرامہ کبھی حقیقی زندگی میں بھی کھیلا جائے گا جس میں کچھ انسان اپنا اپنا کردار ادا کریں گے اور ان کی ” فردوس گم گشتہ قرب الہی میں نہیں بلکہ ایک مصنوعی اور خود ساختہ خدا میں ہوگی۔اور ہمیں اس کی کچھ بھی پروا نہیں کہ وہ اس مصنوعی خدا سے ہمیشہ کے لئے ہاتھ دھو بیٹھیں اور نہ ہی انہیں یہ احساس ہے کہ خدا تعالیٰ کو بھی ان کی کچھ پروا نہیں۔