الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 182

178 سيكولر نقطه هائے نظر کا تجزیه ہے کہ بد عنوان اور بت پرست قیادت ایسے مقبول عام فرضی قصوں کو زندہ رکھتی ہے جو دراصل اس کے اقتدار کو ایک گہری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔وہ سب کے سب تو حید کے علمبردار تھے۔عظیم مذاہب عالم مثلاً یہودیت، عیسائیت، اسلام اور زرتشت ازم کے بانی انبیاء اسی زمرہ میں شامل ہیں۔اگر ہم حضرت موسی ، حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفی ﷺ جیسے انبیاء کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ یہ نظر آئے گا کہ ان میں سے کوئی بھی کسی مشہور و معروف اور مقبول مذہبی گروہ کا نمائندہ نہیں تھا۔انقلاب کی آواز بلند کرنے والے تنہا یہی لوگ تھے۔اُن کے دعاوی کی بنیاد ہمیشہ الہام الہی تھا۔وہ ایک ایسے نئے طرز فکر کے علمبردار تھے جو ایک بالکل مختلف طرز زندگی کا متقاضی تھا۔انہوں نے جن اقدار کو دنیا میں قائم کیا وہ اس وقت کے رسوم و رواج سے بالکل مختلف تھیں۔وہ ہمیشہ ایک نئے نظام کے پیش رو بن کر اُبھرے۔انہوں نے اپنے ہمعصر مذہبی رہنماؤں کو چیلنج کرنے کی جرات کی۔وہ ایک ایسے وقت میں ظاہر ہوئے جب بڑے بڑے مذاہب مختلف فرقوں میں بٹ چکے تھے اور جاہل عوام پر اپنا زیادہ سے زیادہ تسلط قائم کرنے کے لئے با ہم برسر پیکار تھے۔ایسے وقت میں جب کسی ابھی فرستادہ کا ظہور ہوا تو مخالفین نے وقتی طور پر اپنے اختلافات کو بھلا کر نئے خدائی نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی تمام تر قوتوں کو مجتمع کر کے تشدد پر مبنی متحدہ مخالفت کا عظیم محاذ قائم کر لیا۔اس کے بالمقابل خدا تعالیٰ کے کسی فرستادہ کو کسی قسم کی کوئی عوامی حمایت حاصل نہیں تھی۔نہ تو عوام الناس کی اکثریت نے اس کی تائید کی اور نہ ہی اسے کسی برسراقتدار طبقہ کی آشیر باد حاصل ہوئی اور نہ کسی سیاسی قوت نے حمایت کی۔اسے تنہا اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔یہ وہ لوگ تھے جو ایسے بدکردار معاشروں کے مقابلہ کیلئے اٹھے جو ہمیشہ تو ہمات پر مبنی رجحانات کی وجہ سے فروغ پایا کرتے ہیں۔نئے نظام کے یہ داعی ہمیشہ توحید کا پر چار کرتے رہے اور ہر قسم اور ہر شکل کی بت پرستی کی بیخ کنی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ان کے مخالفین اگر کسی ایک بات پر متحد ہوئے تو وہ محض انبیاء کی مخالفت ہی تھی اگر چہ ہمیشہ کی طرح وہ با ہمی طور پر افتراق کا شکار رہے۔توحید کے علمبردار اگر مفتری تھے تو ان کا ہدف ناممکن الحصول تھا۔