الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 177

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 173 طرز فکر ترقی پا کر جڑ پکڑتا اور پھیلتا چلا گیا اور پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی پہنی پراگندگی اور غلط فہمیوں کا باعث بنا جن کا محور بے شمار فوق البشر تصورات تھے جنہیں آقاؤں کا درجہ دے دیا گیا۔دہریت پر مبنی نقطہ نظر والوں نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر بانیانِ مذاہب پر ارادہ دروغ گوئی اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کر دیا۔ان کا دعوی ہے کہ مذہب کے فروغ کے بعد کے دور میں مذہب محض عامتہ الناس کے تو ہمات کا ملغوبہ نہ رہا بلکہ ایک منظم اور پیشہ ور صورت اختیار کر گیا اور اس مرحلہ پر پیشہ ور مذہبی طبقہ کی فریب کاری کو مزید تقویت دینے کیلئے الہام کا نظریہ متعارف کرایا گیا۔مذہبی خانوادہ کے یہ پیشہ ور پادری اور ملاں خدا سے شرف مکالمہ کے مزعومہ تعلق کے باعث خصوصی مرتبہ کے دعویدار بن گئے اور خود کو خدا اور بندے کے مابین رابطے کا ذریعہ قرار دینے لگے۔اس قسم کے کئی دعویدار مختلف اوقات میں اٹھے جن میں سے ہر ایک نے ان مافوق الفطرت طاقتوں سے تعلق کا دعویٰ کیا جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتی ہیں۔ماہرین عمرانیات کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو یونانی دیو مالا اور قدیم مذاہب کے عقائد اور رسم و رواج سے یہی مترشح ہوتا ہے۔دور اول کے انسان کی اپنے گردو پیش میں فطرت کے پیچیدہ اسرار کے حل کے لئے حقیقی جستجو کو بالآخر مذہب کے اکابرین نے دیوی دیوتاؤں کے نام پر عمداً دھوکہ اور فریب دہی کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کے ترقی پذیر شعور نے ایک اور متوازی راستہ بھی اختیار کیا۔ماہرین عمرانیات کے نزدیک جوں جوں ماحول میں واقع مادی دنیا کے بارہ میں انسانی سوچ ترقی کرتی گئی خدا کی ہستی کے متعلق اس کے تصور میں بھی تبدیلی آتی چلی گئی۔بتوں اور مجسموں جیسی غیر ذی روح اشیا کو جنہیں پہلے فی ذاتہ خدا سمجھا جاتا تھا اب آسمانوں میں بسنے والے دیوتاؤں تک رسائی کا ایک وسیلہ سمجھا جانے لگا۔اس طرح بتدریج وہ ان دیوتاؤں کے غضب یا رحم کی مختلف حالتوں کے اظہار کا ذریعہ قرار دیئے جانے لگے۔دیوتاؤں کے تصور میں یوں آہستہ آہستہ تبدیلی آنی شروع ہوئی اور بقول ان کے ان خداؤں کو ایک عام محسوس اور مشہور ہستی کی بجائے ایک نا در ویگانہ و غیر مرئی تخیلاتی وجود سمجھا جانے لگا۔اس طرز فکر نے مزید ترقی کر کے خدائی کے ایک