الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 151
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 149 سکتے کہ زمین پر نہیں۔وہ مجمع ہے تمام صفات کا ملہ کا اور مظہر ہے تمام محامد حقہ کا۔“ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 310) یہ کہنا بجا ہو گا کہ چینی فلسفہ کی بنیاد مذہب پر تھی۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پس منظر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔اس کے متبعین نے اس فلسفہ کا دامن تو ہاتھ سے نہ چھوڑ ا مگر اس منبع سے تعلق کاٹ لیا جس نے اس فلسفہ کو ماضی میں پروان چڑھایا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی ذات کا تصور ذہنوں سے اٹھ گیا اور تاؤ کے پیروکاروں نے اس برتر، قادر مطلق اور زندہ خدا سے ذاتی تعلق توڑ لیا۔الغرض اس میں کوئی شک نہیں کہ کنفیوشن ازم کی طرح تاؤ ازم میں بھی ابتدا میں ایک زندہ اور قائم بالذات خدا پر ایمان ہی ایک ابدی صداقت تھی۔تاؤ ازم اور کنفیوشن ازم کی ابتدائی تعلیمات کے مطابق تاؤ کا عقلی ادراک ہی کافی نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ تاؤ کے احکامات کے سانچہ میں اپنے اعمال اور کردار کو ڈھالنا ہی اصل مقصد حیات تھا۔تاؤ ازم کے بنیادی ماخذ پر، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، ایک طویل عرصہ گزرنے کے باعث اگر چه تاؤ پر ایمان بطور ایک حکیم و علیم اور حقیقی خالق کے بڑی حد تک دھندلا ہو چکا ہے تا ہم وجدان کی صورت میں سہی الہام الہی کا تصور بہر حال اب بھی قائم ہے۔وحی الہی سے وجدان کی طرف یہ سفر بعد میں آنے والے مذہبی مفکرین کے رجحان کا آئینہ دار ہے۔یہاں تک کہ ان کی تحریروں سے روحانیت بالکل ہی مفقود ہو کر رہ گئی اور ان کے نزدیک وجدان محض ایک باطنی عمل بن گیا جو گہرے غور و خوض اور مراقبہ کی مدد سے انسان میں موجود سچائی کے سرچشمہ کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔بے شک انسان اپنی ذات میں ڈوب کر باطنی سچائی کو پا سکتا ہے مگر تاؤ کے مستند لٹریچر کے مطابق تاؤ کے تعلق میں وجدان کا یہ تخلیقی عمل مکمل طور پر باطنی نہیں کیونکہ ان کے نزدیک وجدان کی اپنی حدود ہیں جن کی وجہ سے اس تجربہ سے گزرنے والا شخص محض وجدان کی بنا پر معروضی سچائی کو نہیں پاسکتا۔در اصل خوشی (Fu Hai) کے عظیم کشف پر ہی تاؤ ازم کی بنا ہے۔وجدان کی تعریف کو جس قدر بھی وسیع کر لیا جائے اسے اس کشف پر کسی صورت بھی چسپاں نہیں کیا جاسکتا۔تشریح سے ظاہر