جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 691
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 691 ماریشس سے روانگی سے پہلے میرے ذہن میں ایک اور شخص کا نام تھا لیکن میں نے اس کا ذکر کسی سے نہ کیا۔لندن پہنچنے کے بعد میں نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر " مسرور " کا لفظ لکھا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ یہ وہ نام ہے جو رات ایک بجے سے چار بجے کے درمیان جہاز میں بیٹھے ہوئے میرے ذہن میں آیا تھا۔میں نے یہ کا غذ ایک لفافہ میں بند کر دیا اور یہ مجلس خدام الاحمدیہ کے ملکی صدر کو دے دیا۔میں نے انہیں کہا کہ اسے ہمیشہ اپنی جیب میں رکھیں اور میں بعد میں آپ سے لے لوں گا۔انتخاب خلافت کے وقت جبکہ میں لندن بیت الفضل میں تھا۔یہ کا غذ اس وقت بھی ان کی تحویل میں تھا اور اسے ہر گز کھولا نہیں گیا تھا۔انہیں اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ اس لفافے کے اندر کاغذ پر کیا لکھا ہے۔حضرت صاحبزادہ کے خلیفہ منتخب ہو جانے کے بعد اور مجلس انتخاب خلافت کے ممبران کے بیعت کر لینے کے بعد جب ہمیں باہر جانے کی اجازت ملی تو پھر میں صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ اب یہ لفافہ کھولیں اور دیکھیں کہ اس میں کیا ہے۔وہ کاغذ پر " مسرور " کا لفظ دیکھ کر بہت خوش بھی ہوئے اور حیران بھی۔یہ کاغذ اب بھی ان کے پاس ہے اور وہ اس کی گواہی دے سکتے ہیں۔یہ ایک واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ کون خلیفہ بنے گا۔بلا شبہ میری اپنی کوئی بھی حیثیت نہیں اور نہ ہی اس بات سے میری کوئی خصوصیت ظاہر ہوتی ہے۔البتہ اس سے اس تائید الہی کا اظہار ضرور ہوتا ہے جو اللہ کے مقرر کردہ خلیفہ کو عطا کی جاتی ہے۔اور اس سے یہ بات بھی خوب واضح ہوتی ہے کہ خلیفہ دراصل خدا ہی مقرر کرتا ہے اور لوگ اسے نہیں بناتے۔( تاریخ تحریر 24 اپریل 2003ء)