جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 630
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 630 ہیں۔سٹیج کے سامنے یعنی بالمقابل بے شمار جماعت کے لوگ بیٹھے ہیں بالکل ایسے ہی لوگ نظر آرہے ہیں جیسے کھیلوں کے سٹیڈیم میں لوگ نظر آتے ہیں۔اتنے میں ایک نوجوان نے آکر مائیک پر دواشعار پڑھ دیئے یا پڑھے لیکن وہ اشعار مجھے سمجھ نہیں آتے لیکن تاثر یہ ہے کہ ایسے اشعار ہماری جماعتی تقریبات میں نہیں پڑھے جاتے۔کیونکہ وہ کچھ مزاح کا رنگ لئے ہوئے ہیں۔مجھے خواب میں حیرانگی ہورہی ہے کہ اس نوجوان نے کیا پڑھ دیا۔یہ سوچ ہی رہی ہوں کہ ایک دم میری نظر سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں پر پڑتی ہے تو دیکھا کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع (رحمہ اللہ ) پہلی کرسیوں کی لائن میں تشریف فرما ہیں۔ان کا سر جھکا ہوا ہے۔پہلے تو میں کبھی کہ وہ ان اشعار پر ہنس رہے ہیں۔لیکن جب غور سے دیکھتی ہوں تو وہ ہنس نہیں رہے بلکہ دکھ سے رو ر ہے ہیں اور ناراض بھی ہوئے ہیں۔سر پر پگڑی بھی نہیں اور پھر یکدم کھڑے ہوئے اور اس تقریب سے جانے کے لئے چل پڑے ہیں یا شاید چلے گئے ہیں۔کیونکہ اس کے بعد لوگ تو ادھر ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔لیکن صاحبزادی بی بی حکمی صاحبہ کھڑی ہو گئی ہیں۔ان کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوگئی ہوں اور ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ہم سٹیج کی سیڑھیوں تک پہنچتے ہیں تو میں بی بی حکمی مرحومہ کو کہتی ہوں کہ بی بی ایک فوٹو آپ میرے ساتھ کھینچوالیس ہمیشہ یادگار رہے گی اس پر ہم دونوں سٹیج کی سیڑھیوں پر اترنے لگتی ہیں کیونکہ سٹیج سے بیچے سیڑھیوں کے پاس ایک خاتون کیمرہ لئے بیٹھی ہے۔ابھی دوسٹرھیاں ہی اترے ہیں کہ سامنے دیکھتی ہوں کہ دلہن کو سرخ جوڑے میں لایا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہی خیال آرہا ہے کہ یہ بچی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی ہے۔اور آنکھ کھل گئی۔جاگنے کے بعد پہلا خیال تو یہ ہی آیا که بی بی حکمی مرحومہ کے تو سب بیٹوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔یہ کیسا مجھے خواب آیا ہے۔شادی دیکھنا خوشی بھی ہو سکتی اور غم بھی۔حضور ( رحمہ اللہ ) کے لئے صدقہ کر دوں گی اور پھر آنکھ لگ گئی تو رویا میں دیکھا کہ شوکت سلطان صاحبہ بیگم سلطان محمود انور صاحب اچانک آگئی ہیں