جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 512
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ii۔512 کی آنکھ کھل جاتی ہے۔گھر کا محن جو ہے وہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کا ہی ہے۔7 جنوری 2003ء کو خواب آئی کہ خاکسار بیت الفضل لندن میں ہے۔بیت الفضل کا دروازہ جنوب کی طرف ہے اور کچھ سیڑھیاں سبز رنگ کی چڑھ کر او پر جانا پڑتا ہے کہ اتنے میں حضرت خلیفۃ امسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) تشریف لاتے ہیں۔کریم رنگ کی شیروانی پہنے بہت ہی خوبصورت لگ رہے ہیں۔حضور کے دائیں ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔حضور ہاتھ آگے کرتے ہیں اور خاکسار پٹی بندھے ہاتھ کو دیر تک چومتا رہتا ہے۔پھر خاکسار حضور کے مکان کی سیڑھیوں کی طرف چلا جاتا ہے کہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کی پیار بھری آواز سنائی دیتی ہے اور آپ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔آپ نے تین دفعہ میرا نام لے کر مجھے پکارا ہے۔خاکسار دوڑ کر آپ کی طرف جاتا ہے۔خاکسار کے پاس ایک عدد ٹارچ اور ایک عدد ریوالور بھی ہے۔پھر کچھ مہمانوں کو چھوڑنے گیسٹ ہاؤس نمبر 41 یا نمبر 53 کی طرف چلا جاتا ہوں۔( تاریخ تحریر 15 جولائی 2004ء) ☆۔۔-۲۵ مکرم رشید احمد زاہد صاحب لندن یو کے خاکسار اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر کر کے حلفیہ بیان کرتا ہے کہ 6-5 سال قبل خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ ربوہ میں وفات پاگئے ہیں اور جنازہ قصر خلافت کے مغربی دروازے سے نکل کر جامعہ نصرت احمد یہ ربوہ کے سامنے سڑک پر سے گزرتا ہوا بہشتی مقبرہ کی طرف جارہا ہے۔اس جنازہ کو دیکھنے کے لئے سڑک کے دونوں طرف بہت ہی تعداد