جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 407
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے مکرم چوہدری رحمت علی صاحب سابق باڈی گارڈ حضرت خلیفہ اسیح الثانی 407 دو پہر کا کھانا تناول کر کے بغرض کلولہ لیٹا ہوا تھا کہ میری آنکھ لگ گئی۔اسی اثناء میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا ہجوم ہے۔اس ہجوم کی مشرقی سمت میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ ہجوم المسیح الاوّل (اللہ آپ سے راضی ہو ) اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) اور ان کے علاوہ دو بزرگ جن کو میں نہیں جانتا وہ بھی ہمراہ ہیں کہ ایک دم ان چاروں حضرات کے درمیان ایک بہت حسین اور خوبصورت نوجوان ہستی ان میں آموجود ہوئی اور ہجوم نے کہنا شروع کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں اسی لمحہ ایک دوست نے خاکسار سے کہا۔کہ سنا ہے کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دوٹکڑے کر دیئے تھے تو پھر آج بھی چاند کے دوٹکڑے ہوں گے یا نہیں۔خاکسار نے کہا کہ اس وقت تو چاند کے دوٹکڑے کئے گئے تھے۔آج چاند خود ہی ان کے قدموں میں آجائے گا۔اُس وقت رات کا سماں ہو گیا۔اور چاند اپنی پوری آب و تاب سے آسمان پر چپکنے لگا۔پھر میرے دیکھتے دیکھتے چاند آہستہ آہستہ آسمان سے زمین کی طرف آنے لگا۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں آگرا۔میں نے اسی وقت سارے ہجوم کو مخاطب کر کے کہا۔کہ اس وقت تو صرف چاند کے دوٹکڑے کرنے کا معجزہ تھا آج یہ معجزہ ہے۔کہ چاند خود بخود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں آگرا ہے۔جب ہجوم نے اچھی طرح دیکھ لیا۔تو پھر چاند نے آہستہ آہستہ اوپر جانا شروع کر دیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی جگہ پر پہنچ گیا۔یہاں تک خواب پہنچی تھی کہ میری بڑی بھاوجہ صاحبہ نے مجھے آواز دی کہ رحمت علی آذان ہوگئی ہے۔جاؤ اٹھ کر نماز پڑھو۔خواب تقریباً سترہ اٹھارہ مئی 1982ء کی ہے۔( تاریخ تحریر 07 جولائی 1982ء)