جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 328
خلافت رابعه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے 328 کو بوسہ دیتا ہے اور مجھے اس سے شرمندگی ہوتی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ تم خلیفہ اسیح ہو۔لیکن طبیعت میں سخت شرم محسوس ہوتی ہے اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔میں فورا آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہوں۔تو آپ یہ بتانے کے لئے میرا بوسہ باقی رہے گا تمہارے بوسے سے یہ منسوخ نہیں ہوتا دوبارہ میرے ہاتھ کو کھینچ کر پھر بوسہ دیتے ہیں۔اور پھر میں محسوس کرتا ہوں کہ اب تو اگر میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا تو ختم نہیں ہوگا اس لئے اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔چنانچہ میں اصرار بند کر دیتا ہوں۔اس کے بعد مجھے فرماتے ہیں کہ اب تم خلافت کا پوری طرح چارج لے لو اور اب مجھے رخصت کرو، میرے ساتھ رہنے کی اب ضرورت کیا ہے۔تو میں کہتا ہوں کہ اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ خلافت کوئی شریکا نہیں ، دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں جس میں کسی قسم کا حسد یا مقابلہ ہو بلکہ یہ ایک نعمت ہے اور انعام ہے۔میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ صاحب انعام لوگوں میں آپس میں محبت ہوتی ہے اور پیار کا تعلق ہوتا ہے اور کسی قسم کا حسد یا مقابلہ نہیں ہوتا۔تو یہ مفہوم آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں اور یہ نظارہ ختم ہو جاتا ہے۔-i حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کے اشارے خادم دین پیدا ہوں گے : 07 فروری 1921ء کو حضرت مولاناسید محمد سرور شاہ صاحب نے حضرت مصلح موعود کے ساتھ حضرت سیدہ ام طاہر کا نکاح پڑھاتے ہوئے فرمایا۔" میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔میں چلا جاؤں گا مگر میرا ایمان ہے کہ جس طرح سے پہلے سیدہ سے خادم دین پیدا ہوئے اسی طرح اس سے بھی خادم دین پیدا ہوں گے۔یہ مجھے یقین ہے جو لوگ زندہ ہوں گے وہ دیکھیں گے۔" (الفضل 14 فروری 1921ء)