جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 180 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 180

خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے ۴۵۔مکرم جناب مہر الدین صاحب خادم بیت دار الفتوح قادیان دارالامان 180 "14 یا 1913ء میں ہمارے ایک رشتہ دار مستری فضل دین صاحب ہمارے گاؤں علیہ وال جٹاں ضلع گورداسپور آئے اور ہمیں تبلیغ کرتے رہے۔مگر ہم نے مخالفت کی۔مستری صاحب نے آپ کی صداقت بذریعہ دعا معلوم کرنے کا گر بتایا۔چنانچہ میں نے چند دن تک دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مندرجہ ذیل رویا دکھایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سخت آندھی چل رہی ہے اور کہیں مضبوط جائے پناہ دکھائی نہیں دیتی۔آخر جگہ تلاش کرتے کرتے میرا گذرریتی چھلہ والے بوہڑ کے پاس سے ہوا۔اس بوہڑ کے نیچے ایک چارپائی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہیں۔اردگرد عام خلقت زمین پر بیٹھی ہے اور وہاں طوفان آندھی کا کوئی اثر نہیں۔میں نے اپنے ساتھ والے آدمی سے دریافت کیا کہ یہ کون بزرگ ہیں۔اس نے جواب دیا یہی وہ شخص ہیں جنہوں نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔۔۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ یہ فوت ہو چکے ہیں۔آج صرف اپنی جماعت کو جمع کر کے سمجھانے آئے ہیں کہ " محمود کی بیعت کرو۔میری جماعت کے ناخدا اب محمود ہی بنیں گے۔" اس کے بعد میں نے دریافت کیا کہ وہ کہاں ملیں گے تو مجھے بیت الاقصیٰ والا راستہ بتایا گیا۔چنانچہ میں سیدھا بڑے بازار سے ہوتا ہوا بیت میں داخل ہو گیا۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے درخت کے نیچے جو ( بیت ) میں ہے کھڑے قرآن شریف کا درس فرمارہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام صحابہ بیٹھے سن رہے ہیں۔مجھے کوئی دوست کہتے ہیں بیٹھ جاؤ۔میں نے ان کا نام پوچھا۔انہوں نے جواب دیا اب خلیفہ وقت یہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو فوت ہو گئے ہیں۔اب حضور انور کے یہ دوسرے جانشین برحق ہیں۔اگر تم نے ابھی بیعت نہیں کی تو فوراً کرلو۔اس کے بعد میں جاگ پڑا اور