جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 121 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 121

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے۔حضرت حافظ نور محمد صاحب آف فیض اللہ چک کی روایات و رویا اور الہام 121 آپ بفضلہ تعالیٰ ابتداء سے ہی خلافت ثانیہ سے وابستہ ہو گئے تھے آپ کو اس بارہ میں جور و یا وغیرہ ہوئے آپ لکھتے ہیں۔"لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّهُ اثِمٌ قَلْبُهُ - اس آیت شریف کو مد نظر رکھ کر خدا وند سے ڈر کر سچی شہادت پیش کرتا ہوں۔جواس تفرقہ کے وقت ضروری سمجھتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ عرصہ پندرہ سولہ سال کا ہوا ہے کہ میں اپنے گاؤں میں ایک آم کے درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا قرآن شریف کی تلاوت کر رہا تھا جو میری تلاوت میں یہ آیت تھی جو سورۃ ص میں ہے۔يَا دَاؤُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ - تب مجھے رویا کی حالت ہوگئی۔اتنے میں میرے روبرو حضرت میاں صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کھڑے ہیں۔آپ اس وقت بچہ ہی تھے میں نے اپنے رویاء میں آپ کو جوان و مضبوط دیکھا۔اتنے میں مجھے یہ آواز آئی غیب سے۔میاں محمود ڈپٹی کمشنر۔یہ رویا میں نے حضرت صیح الزمان رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بیان کی۔تب آپ نے فرمایا کہ ہاں کمشنر کے بعد ڈ پٹی کمشنر ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح کو بھی سنائی۔میرے دل میں اس وقت سے یہی خیال تھا۔کہ انشاء اللہ تعالیٰ میاں صاحب قدرت ثانیہ کے مظہر ہوں گے۔" (یا داؤد والا رؤیا الحکم 07/اکتوبر 1934 ء صفحہ 4 کالم میں بھی مرقوم ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب اس وقت بارہ تیرہ برس کے تھے گویا 1901 یا1902 کی بات ہے ) -ii " جس روز خلیفتہ اسیح علیہ السلام کا جنازہ ہوا ہے اس کی صبح یعنی 14 / مارچ 1914ء