جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 507
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ii۔یہ خواب مجھے فروری یا جنوری 2003ء میں آئی تھی۔507 میں نے دیکھا کہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب اور حضرت خلیفہ مسیح الرابع (رحمہ اللہ ) دونوں نے ایک جیسا لباس پہنا ہوا ہے۔اور ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔حضرت خلیفة اصیح الرابع ( رحمہ اللہ) حضرت صاحبزادہ صاحب کو حضور کہہ کر پکارتے ہیں۔اور ایسے لگتا ہے کہ جلسہ کا موقع ہے۔تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد حضرت مرزا مسرور احمد غائب ہو جاتے ہیں ، اور حضور ( رحمہ اللہ ) سیج پر اکیلے ہی نظر آتے ہیں۔حضور ( رحمہ اللہ ) جب تقریر شروع کرتے ہیں ، تو اس کے دوران تھکاوٹ محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔تو مکرم منیر جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری سے کہتے ہیں کہ آپ تقریر سنا دیں۔اور اپنے کاغذات ان کے حوالہ کر دیتے ہیں۔خود اٹھ کر سٹیج کی دوسری طرف آجاتے ہیں۔وہاں خاکسار موجود ہوتا ہے۔مجھے دیکھ کر کہتے ہیں کہ آپ بھی یہاں موجود ہیں۔میں کہتا ہوں کہ جی حضور۔پھر میں سوال کرتا ہوں که حضور وہ دوسرے والے حضور ( حضرت مرزا مسرور احمد ) کہاں گئے۔آپ فرماتے ہیں کہ ابھی ان کی ضرورت نہیں وہ بعد میں آئیں گے "۔یہ خواب بھی میں نے اپنی اہلیہ اختر درانی صاحبہ اور محترم زبیرخلیل صاحب نیشنل جنرل سیکرٹری کو سنائی تھی۔یہ خواب حضور کی بیماری کے دوران میں نے دیکھی تھی۔پھر جب حضور صحت یاب ہوئے۔تو حضور کا پیغام سیکر ٹری منیر احمد جاوید صاحب نے پڑھ کر سنایا تھا۔جب میں زبیر خلیل صاحب کو خواب سنا رہا تھا۔تو انہوں نے بے ساختہ مجھ سے سوال کیا کہ وہ دوسرا شخص کون تھا، میں نے بڑے واضح الفاظ میں ان کو بتایا کہ محترم مرزا مسرور احمد صاحب تھے۔" iii۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع (رحمہ اللہ ) کی وفات سے ایک ہفتہ پہلے خواب میں میں نے دیکھا۔ایک میدان میں میں اور میری اہلیہ کھڑے ہیں اور ایسے لگتا ہے، کہ جیسے ابھی ابھی