جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 495
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے اس کا مفہوم یہی تھا۔495 تاریخ تحریر 28 /اگست 2003ء) ۱۲ مکرم مسرور احمد مظفر صاحب۔مبلغ سلسلہ وولٹا ریجن غانا 1994-1995ء کی بات ہے کہ خاکسار نے خواب دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ) پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔اور خاکسار کی ڈیوٹی لگی ہے کہ حضور ( رحمہ اللہ ) کو گاڑی پر ائیر پورٹ سے لانا ہے۔(خاکسار کا گھر لاہور میں ہے ) اور جو گاڑی مجھے دی گئی وہ بڑی جدید قسم کی تھی۔جس کا اسٹیرنگ نہیں تھا بلکہ مختلف بٹن تھے جس طرح جہاز کے ہوتے ہیں اور مجھے لوگوں نے یا عہد یداروں نے پوچھا کیا تم یہ گاڑی چلا سکتے ہو؟ میں نے عرض کی انشاء اللہ۔چنانچہ جب اس گاڑی میں حضور ( رحمہ اللہ ) کو لینے گیا تو تقریباً سارا راستہ ایک پل نما تھا اور ایک ہی گاڑی گزرسکتی تھی اور پل کے دونوں جانب بہت بڑا دریا تھا اور خاکسار نے ڈرتے ڈرتے بڑے آرام سے وہ سفرمکمل کیا اور اپنے گھر حضور ( رحمہ اللہ ) کی دعوت کی جو حضور نے بڑی خوشی سے قبول فرمائی۔اس وقت تو سمجھ نہیں آئی لیکن اب پتا لگتا ہے کہ یہ خواب خلافت خامسہ سے تعلق رکھتی ہے اور چونکہ آپ ہی کا نام مسرور ہے اور خلافت کی گاڑی جو عام گاڑی نہیں تھی بٹنوں والی تھی یعنی خدا کے ہی براہ راست کنٹرول میں تھی اور دریا سے میری ناقص عقل کے مطابق مشکلات جو اس راہ میں آئیں گی لیکن اللہ اپنی تائید و نصرت سے خلیفہ اسی کو کامیاب فرمائے گا۔( تاریخ تحریر 26 /اپریل 2003ء)