جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 43 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 43

خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے و۔آپ ضمیمہ "انجام آتھم " میں فرماتے ہیں۔43 "مولوی حکیم نور الدین صاحب۔۔۔۔۔تمام دنیا کو پامال کر کے میرے پاس ان فقراء کے رنگ میں آبیٹھے ہیں جیسا کہ اخص صحابہ رضی اللہ عنہم نے طریق اختیار کر لیا تھا۔" ضمیمہ انجام آنقم از روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 315) آپ "ضرورۃ الامام " میں تحریر فرماتے ہیں۔" ہماری جماعت میں اور میرے بیعت کرده بندگان خدا میں ایک مرد ہیں جو جلیل الشان فاضل ہیں اور وہ مولوی حکیم حافظ حاجی حرمین نور الدین صاحب ہیں جو گویا تمام جہان کی تفسیر میں اپنے پاس رکھتے ہیں اور ایسا ہی ان کے دل میں ہزار ہا قرآنی معارف کا ذخیرہ ضرورة الامام از روحانی خزائن جلد 13 صفحه 500) ہے۔" اشتہارات میں ذکر : حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہارات میں آپ (حضرت مولانا نورالدین صاحب کی شان میں بہت کچھ لکھا ہے۔مثلاً 04 اکتوبر 1899 ء کے اشتہار میں لکھا۔" میں اس بات کے لکھنے سے رہ نہیں سکتا کہ اس نصرت اور جانفشانی میں اول درجہ پر ہمارے خاص محب فی اللہ مولوی حکیم نورالدین صاحب ہیں جنہوں نے نہ صرف مالی امداد کی بلکہ دنیا کے تمام تعلقات سے دامن جھاڑ کر اور فقیروں کا جامہ پہن کر اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان میں موت کے دن تک آبیٹھے اور ہر وقت حاضر ہیں۔اگر میں چاہوں تو مشرق میں بھیج دوں یا مغرب میں۔میرے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسبت براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے۔أَصْحَابُ الصُّفَةِ وَمَا أَدْرَكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَةِ اور مولوی حکیم نورالدین صاحب تو ہمارے اس سلسلہ کے ایک شمع روشن ہیں۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 308 جدید ایڈیشن)