جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 385
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 385 راستہ پر۔جو اس پل سے آگے نکلتا ہے۔چل پڑے۔لیکن کچھ پریشان سا ہو جاتا ہوں کہ انہیں کوئی گزند نہ پہنچے۔اسی اضطراب کی حالت میں سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں کہ یہ خبر عام ہوتی ہے کہ میرے والد صاحب قتل ہو گئے اور ان کی پگڑی اور کوٹ مجھے دے دیئے جاتے ہیں۔میں عجیب شش و پنج میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔اور سوچتا ہوں کہ خدا یا یہ کیا ماجرا ہوا۔کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے اور آج تک دل مضطر رہا ہے کہ یہ نظارہ کن آنے والے حالات کی غمازی کرتا ہے۔چنانچہ چند دن قبل ہمارے روحانی باپ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کو جب خدائے ذوالجلال اور حی و قیوم نے اپنی رضا کے تحت اس دنیا سے واپس بلا لیا۔تو اس نے اپنے فضلوں اور رحمتوں سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو مسند خلافت پر فروزان ہونے کے ساتھ ساتھ جبہ و دستار خلافت بھی عطا فرمائی۔چونکہ میرا نام بھی طاہر ہے اور وہ پگڑی اور کوٹ جو خواب میں مجھے والد صاحب کے بطور دنیوی وراثت ملے۔عین اسی طرح ہمارے روحانی باپ حضرت خلیفہ اسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات کے بعد ان کی پگڑی اور جبہ خلافت حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو خدا نے بطور روحانی وراثت عطا فرمائے ہیں۔تاریخ تحریر 28 جون 1982ء) ۵۷ مکرم بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ گوہد پور ضلع سیالکوٹ آٹھ نو ماہ پیشتر میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیہ اسی منتخب ہو گئے ہیں اس وقت آپ ٹوپی پہنے ہوئے ہیں میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی